پنجاب اور سندھ کے درمیان تنازعہ کی وجہ اور حل کیا ھے؟

 پنجاب اور سندھ کے درمیان تنازعہ کی وجہ اور حل کیا ھے؟


سندھ پر بلوچوں اور عربی نژاد وڈیروں سرداروں نے قبضہ کیا ھوا ھے اور سندھ کو سندھیوں کا ملک کہہ کر وفاق سے سندھ پر حکمرانی کا حق لیتے ھیں اور سندھیوں کی بجائے بلوچوں اور عربی نزادوں کو سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی سہولتیں فراھم کرتے ھیں۔ 


سندھ میں رھنے والے پنجابی ' براھوئی ' گجراتی اور راجستھانی تو کیا سندھ کے اصل باشندے سماٹ بھی سندھ حکومت میں آبادی کے مطابق نمائندگی اور اختیار نہ ھونے کی وجہ سے سماجی و معاشی حق اور سیاسی و انتظامی سہولتیں لینے میں ناکام رھتے ھیں۔


سندھ کے اصل باشندے تو سماٹ ھیں۔ جو پنجابی قوم کے تاریخی پڑوسی ھیں۔ لیکن سندھ پر قبضہ بلوچوں اور عربی نژاد وڈیروں سرداروں کا ھے۔ 

اس لیے سندھ اور پنجاب کے درمیان تنازعہ کا سبب سندھ پر قابض بلوچ اور عربی نژاد وڈیرے سردار ھیں۔ 


جب تک سماٹ کو بلوچوں اور عربی نژاد وڈیروں سرداروں کی سماجی ' معاشی ' سیاسی ' انتظامی بالادستی سے نجات نہیں ملتی۔ اس وقت تک؛ نہ پنجاب اور سندھ کے درمیان تنازعہ ختم ھونا ھے۔ نہ سندھ سے پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف بلوچوں اور عربی نژاد وڈیروں سرداروں کی سازشوں اور شرارتوں کا سلسلہ ختم ھونا ھے۔

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int