کراچی کی مردم شماری ایک کروڑ 50 اور آبادی 2 کروڑ 50 لاکھ ھے۔ کراچی میں 1 کروڑ 50 لاکھ مستقل رھائش پذیر افراد کے علاوہ 1 کروڑ افراد عارضی یا غیر قانونی طور پر رھائش پذیر ھیں۔ اس لیے کراچی کی مردم شماری ایک کروڑ 50 اور آبادی 2 کروڑ 50 لاکھ ھے۔

 کراچی کی مردم شماری ایک کروڑ 50 اور آبادی 2 کروڑ 50 لاکھ ھے۔


کراچی میں 1 کروڑ 50 لاکھ مستقل رھائش پذیر افراد کے علاوہ 1 کروڑ افراد عارضی یا غیر قانونی طور پر رھائش پذیر ھیں۔ اس لیے کراچی کی مردم شماری ایک کروڑ 50 اور آبادی 2 کروڑ 50 لاکھ ھے۔


مردم شماری میں مستقل رھائش پذیر افراد کو شمار کیا جاتا ھے۔ جبکہ کسی علاقے میں رھنے والے ان افراد کا اندراج ان علاقوں میں کیا جاتا ھے جس علاقے کا مستقل پتہ ان کے شناختی کارڈ پر ھو۔ پاکستان کی 2017 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 1 کروڑ 50 لاکھ ھے۔


کراچی میں 50 لاکھ ھندوستانی مھاجر ' 25 لاکھ پنجابی ' 25 لاکھ پٹھان ' 25 لاکھ کشمیری ' گلگتی بلتستانی کوھستانی ' ھزارہ ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی و دیگر ' 15 لاکھ سندھی ' 10 لاکھ بلوچ مستقل رھائش پذیر ھیں۔ 


جبکہ 25 لاکھ پنجابی ' 15 لاکھ پٹھان ' 15 لاکھ کشمیری ' گلگتی بلتستانی کوھستانی ' ھزارہ ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی و دیگر ' 10 لاکھ سندھی ' 5 لاکھ بلوچ عارضی طور پر اور 30 لاکھ برمی ' بنگالی ' افغانی و دیگر غیر قانونی طور پر رھائش پذیر ھیں۔ ان کا پاکستان کی 2017 کی مردم شماری میں اندراج نہیں کیا گیا۔


کراچی میں رھنے والے ایک کروڑ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' برمی ' بنگالی ' افغانی و دیگر کے کراچی میں رھنے کے باوجود ان کے شناختی کارڈ پر مستقل رھائش کراچی کی نہ لکھی ھونے کی وجہ سے؛


1۔ ان کا کراچی کی مردم شماری میں اندراج نہیں کیا گیا۔


2۔ ان کا کراچی کی ووٹر لسٹوں میں بھی اندراج نہیں کیا جاتا۔


کراچی میں موجود 2 کروڑ 50 لاکھ افراد کی وجہ سے کراچی شھر 5 قوموں کا بڑا شھر ھے۔ اس لیے؛


1۔ دنیا بھر میں پنجاب سے باھر رھنے والے پنجابیوں کے 50 لاکھ کی تعداد میں ایک شھر میں رھنے کی وجہ سے پنجاب سے باھر پنجابیوں کا سب سے بڑا شھر کراچی ھے۔


2۔ دنیا بھر میں 50 لاکھ کی تعداد میں ایک شھر میں رھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا سب سے بڑا شھر کراچی ھے۔


3۔ دنیا بھر میں 40 لاکھ کی تعداد میں ایک شھر میں رھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں پٹھانوں کا سب سے بڑا شھر کراچی ھے۔


4۔ دنیا بھر میں 25 لاکھ کی تعداد میں ایک شھر میں رھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں سندھیوں کا سب سے بڑا شھر کراچی ھے۔


5۔ دنیا بھر میں 15 لاکھ کی تعداد میں ایک شھر میں رھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں بلوچوں کا سب سے بڑا شھر کراچی ھے۔


6۔ کراچی میں 40 لاکھ کشمیری ' گلگتی بلتستانی کوھستانی ' ھزارہ ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی و دیگر بھی رھائش پذیر ھیں۔ جبکہ 10 لاکھ افغانی ' 10 لاکھ بنگالی ' 5 لاکھ برمی اور 5 لاکھ دیگر افراد غیر قانونی طور پر رھائش پذیر ھیں۔

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟