بلوچستان میں "بلوچ" اقلیت میں ھیں۔ پاکستان کی 2017 مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی 12،335،000 ھے اور بلوچستان ایک "کثیر القومی" صوبہ ھے۔

 بلوچستان میں "بلوچ" اقلیت میں ھیں۔


 پاکستان کی 2017 مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی 12،335،000 ھے اور بلوچستان ایک "کثیر القومی" صوبہ ھے۔


بلوچستان میں پشتو اور براھوئی زبان بولنے والے بڑے گروہ ھیں۔ رخسانی + سلیمانی = بلوچی بولنے والے بلوچستان میں ایک "اقلیتی گروہ" ھیں۔


بلوچ غیر فطری طور پر مکرانی کو بلوچ میں شامل کرتے ھیں اور براھوئی کو بھی بلوچ میں شامل کرنے کی سازش کرتے ھیں۔


پشتو زبان بنیادی طور پر بلوچستان کے شمالی علاقے میں بولی جاتی ھے اور براھوئی زبان بنیادی طور پر بلوچستان کے وسطی علاقے میں بولی جاتی ھے۔


بلوچستان میں درج ذیل زبانیں بولی جاتی ھیں؛


براھوئی 

پشتو

بلوچی

سندھی 

سرائیکی 

پنجابی 

اردو 

ھندکو  

کشمیری 

مکرانی، رخسانی ، سلیمانی  

(نوٹ: مردم شماری میں بلوچ کی آبادی مکرانی رخسانی سلیمانی کو اپنے میں شامل کرنے اور بڑی تعداد میں براہوی کے خود کو بلوچ لکھنے کی وجہ سے اکثریت نظر آتی ھے)


بلوچستان میں مختلف زبانیں بولنے والوں کی آبادی درج ذیل ھے؛


پشتو 4،359،189

براھوی 2،111،752

سندھی 562،476

سرائیکی 326،877

پنجابی 139،385

اردو 99،913

ھندکو 43،538

کشمیری 17،269

مکرانی + رخشانی + سلیمانی = بلوچی 4،377،691


پشتو زبان کوئٹہ سمیت شمال اور شمال مغرب جبکہ پنجاب سے متصل بارکھان اور موسی خیل اضلاع میں بولی جاتی ھے۔


براھوی زبان وسطی بلوچستان ' قلات اور مستونگ میں بولی جاتی ھے۔


سندھی زبان جنوب مشرق میں بولی جاتی ھے۔ سبی ' نصیر آباد اور کچھی خطے کے جاموٹ قبائل بنیادی طور پر جدگلی (سندھی) بولتے ھیں۔ لاسی (سندھی) ضلع لسبیلہ میں بولی جاتی ھے۔


کھیترانی اور جعفری بولیاں ( سرائیکی) بلوچستان کے شمال مشرقی علاقے کی مقامی زبانیں ھیں۔


بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پنجابی ' اردو ' ھندکو ' کشمیری بولنے والے موجود ھیں۔


مکرانی زبان زیادہ تر جنوبی ساحلی علاقوں میں بولی جاتی ھے۔ اس کے علاوہ مکران کے ساحلی علاقہ میں سدی اور میڈ برادریاں رھتی ھیں۔ جو مخصوص نسلی بولیاں بولتی ھیں۔


رخسانی زبان بہت کم آبادی والے مغربی علاقے میں بولی جاتی ھے۔


سلیمانی زبان مشرقی علاقے میں بولی جاتی ھے اور خاص طور پر مری اور بگٹی قبیلے بولتے ھیں۔

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int