سرائیکی قوم اور الگ تہذیب زبان کی گردان کرنیوالوں سے ایک سوال ؛ خواجہ غلام فرید جسے سرائیکی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ھے وہ 19ویں صدی کے اوائل تک حیات رھے اور اپنی شاعری میں پنجاب سندھ سمیت کئی شھروں کے نام بھی لکھے کسی سرائیکی زبان یا سرائیکی وسیب کا ذکر کیوں نہیں کیا ؟؟؟

 سرائیکی قوم اور الگ تہذیب زبان کی گردان کرنیوالوں سے ایک سوال ؛

خواجہ غلام فرید جسے سرائیکی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ھے وہ 19ویں صدی کے اوائل تک حیات رھے اور اپنی شاعری میں پنجاب سندھ سمیت کئی شھروں کے نام بھی لکھے کسی سرائیکی زبان یا سرائیکی وسیب کا ذکر کیوں نہیں کیا ؟؟؟

خواجہ غلام فرید مقابیل مجالس میں اپنے مرشد یا استاد کی زبان پنجابی لکھتے ھیں اور چشتیاں کا ذکر بھی کرتے ھیں ، سرائیکی اور سرائیکی وسیب کا ذکر کیوں نہیں کیا ؟؟؟ 

لفظ سرائیکی کو سن 1962 سے پہلے کسی مستند حوالے سے ثابت کیا گیا ؟؟

سن 1962 کے بعد ایجاد کئے گئے لفظ کی اپنی الگ تہذیب اور زبان کیسے بن گئی؟؟

سن 1962 سے پہلے کیا سرائیکی مریخ چاند یا کسی اور سیارے پر رہتے تھے اور 1962 کے بعد پنجاب میں ان کا نزول ھوا؟؟؟

حیرت ھے ،

اگر اتنا اھم تھا سرائیکی قوم اور تہذیب کا بنانا تو زبان ھی کوئی نئی بنا لیتے پنجابی کے لہجے پر سرائیکی کا لیبل لگانے کی کیا ضرورت ھے ؟؟؟؟

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟