نفرت اسکو کہتے ھیں جو پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی ایم سید ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین نے پھیلائی اور اب پنجابی ان کے پھیلائے ھوئے نفرت والے فلسفے کا جواب دینے لگے ھیں تو پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی ایم سید ' ھندی(اردو) بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کے فلسفے کے عادی حضرات کی چینخیں نکل رھی ھیں جو عادی بن چکے ھیں پنجاب اور پنجابی قوم پر جھوٹے الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' قتل کرکے سندھ اور بلوچستان بدر کرکے جائیداد پر قبضہ کرکے جلاکے لاشیں بوری میں بند کرکے اور گھٹیا اور نیچ حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے کے۔ *PNF SINDH*

 نفرت اسکو کہتے ھیں جو پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی ایم سید ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین نے پھیلائی اور اب پنجابی ان کے پھیلائے ھوئے نفرت والے فلسفے کا جواب دینے لگے ھیں تو پٹھان غفار خان ' بلوچ خیر بخش مری ' عربی نزاد جی ایم سید ' ھندی(اردو) بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کے فلسفے کے عادی حضرات کی چینخیں نکل رھی ھیں جو عادی بن چکے ھیں پنجاب اور پنجابی قوم پر جھوٹے الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' قتل کرکے سندھ اور بلوچستان بدر کرکے جائیداد پر قبضہ کرکے جلاکے لاشیں بوری میں بند کرکے اور گھٹیا اور نیچ حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے کے۔

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟