جناب اچکزئی کی تاریخی فراست کا جواب

 جناب اچکزئی کی تاریخی فراست کا جواب…(4)


پیر 21 دسمبر 2020ء

تحریر : اشرف شریف


یورپ میں بیٹھے بزرگ پنجابیوں نے غدر موومنٹ بنائی‘ سیالکوٹ کے موہن سنگھ نے آزاد ہندو فوج بنائی‘ پھر سہگل‘ ڈھلوں اور شاہنواز جیسے کردار ہیں‘ بھگت سنگھ سندھو ‘ راجگورو اور سکھدیو‘ جلیانوالہ باغ میں شہید ہونے والے مسلمان‘ سکھ اور ہندو پنجابی‘ قصور کے وہ لوگ جنہوں نے انگریز کے خلاف بغاوت کی اور کوڑے کھائے، میرے ایک بزرگ جان محمد بھی ان میں شامل تھے۔ ادھم سنگھ نے لندن جا کر انگریز جنرل ڈائر کو قتل کیا۔ ایک اور موصوف مطمئن نہ ہوئے اور پتہ پھینکا کہ پنجاب کا کوئی رہنما جس نے تحریک پاکستان کے حوالے سے قائد اعظم کا ساتھ دیا ہو؟۔ اللہ بھلا کرے میرے استاد اور دوست یاور نواز صاحب کا انہوں نے علامہ اقبال‘ مولانا ظفر علی خان کا نام لیا۔ میں نے بتایا کر برٹش ٹرانسفر پیپر پڑھ لیں۔ ان میں خضر حیات ٹوانہ اور نواب ممدوٹ قائد اعظم کی جانب سے بہت سے معاملات میں وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن‘ گورنر جینکنز اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کرتے رہے‘ حریت پسند تحریک کے حوالے سے ہم ان علماء کو بھی فراموش نہیں کر سکتے جنہیں پنجاب سے اٹھا کر کالا پانی بھیج دیا گیا۔ اس تاریخ میں میرے آبائی شہر کا ملنگی‘ لاہور کا امام دین گوہاویا‘ گجرات کے نواح کا رائے احمد خان کھرل‘ پنڈی بھٹیاں کا عبداللہ عرف دلا بھٹی جس نے مغل بادشاہ اکبر کو بیرونی حملہ آور قرار دے کر بغاوت کردی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب پر غیر پنجابی اشرافیہ کا قبضہ صدیوں پر محیط ہے۔ اس اشرافیہ نے اہم معاملات بھی اپنے لوگوں کو سونپے۔ کیا یہ بات باعث حیرت نہیں کہ آپ کسی بھی دوسرے صوبے کی مادری زبان پرائمری کے نصاب میں پڑھتے ہیں لیکن پنجاب میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایک بار میں نے کچھ کالم نگار دوستوں کو پنجابی میں ایک پیغام بھیج دیا۔ کئی ایک نے شکایت کی کہ یہ اردو میں کیوں نہیں‘ پنجاب کی جامعات میں دوسرے صوبوں کے طلباء نے اپنی ثقافتی اور رابطہ تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔ کیا پنجابی طلباء کسی دوسرے صوبے میں اس قدر آزادانہ سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں؟ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن ایک ہیں‘ ان کے ظاہری حالات کچھ مختلف ضرور ہیں‘ دونوں افغانستان کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہیں‘ یہ امر ریکارڈ پر ہے کہ خاص طور پر ان دونوں نے لاکھوں افغان شہریوں کو پاکستان کا شہری بنانے کے لئے اپنا سیاسی اثرورسوخ استعمال کیا‘ یہ لوگ پاکستان آ کر ان کے ووٹر بن جاتے ہیں۔ حافظ حمد اللہ کا معاملہ اس کی مثال ہے‘ المیہ یہ کہ عدالت سے حکم امتناع لے کر حافظ حمد اللہ کا مقدمہ التواء کا شکار کر دیا گیا ہے۔ اب موزوں حالات کا انتظار کیا جا رہا ہے‘ حکومت یا اسٹیبلشمنٹ جب بھی کمزور پڑی دیگر معاملات کی طرح اس کیس میں بھی چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ یہ لوگ جن کو نادرا کی شناختی دستاویزات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں وہ سوفیصد پاکستان کے وفادار ہیں‘ کیا یہ سچ نہیں کہ بلوچستان اور کے پی کے میں سمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث لوگوں کو کہیں نہ کہیں سے سیاسی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ پاکستان کو آگے بڑھنا ہے‘ تمام نسلوں اور مقامی قومیتوں میں اچھے برے لوگ رہے ہیں۔ تاریخ زندہ رہتی ہے اس لئے ایسے لفظ زبان سے نہیں نکالنا چاہئیں جو ادا کرنے والے کو تاریخ میں مار دیں۔ ہماری سیاسی قیادت بروقت مکالمہ کا فرض ادا نہ کر سکی جس سے پاکستان کو متعدد سانحات دیکھنے پڑے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری قومی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں‘ انہیں صرف نعرے لگانے اور عمران خان کے خلاف پرجوش تقریریں لیڈر نہیں بنا سکتیں۔ انہیں مقامی ثقافتوں کے متعلق کس قدر آگاہی ہے‘ وہ زبان ‘ عقائداور جغرافیے کے درمیان تعلق کا تجزیہ کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں‘ انہیں کلچر اور سیاسی کلچر کو الگ الگ کر کے دیکھنا ہو تو کیسے دیکھیں گے؟ ان سے پوچھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی اور پروڈکشن کے ٹولز بدلنے سے پاکستانی سماج کے سیاسی رویے میں جو بدلائو آیا اس نے تیسری سیاسی جماعت کو ابھارا‘ ان کی جماعتوں کے دانا اس تبدیلی کا اندازہ کیوں نہ لگا سکے؟ مریم نواز اور بلاول کو بتانا چاہیے کہ تجویز نیشنل ڈائیلاگ کی ہو‘ نئے معاہدہ عمرانی کی ہو یا مفاہمتی سیاست کی‘ اس عمل میں ہمیشہ عوام نظرانداز اور مخصوص خاندان ہی کیوں فائدے میں رہتے ہیں ؟۔ میرا ان دونوں سے سوال ہے کہ معاشیات‘ ٹیکنالوجی‘ خلائی سائنس اور ماحولیات سے بے خبر قیادت دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے بے خبر اور ناخواندہ لوگوں کی بھیڑ جمع کر کے کیسے ملک چلا سکے گی۔ ناتجربہ کاری نہیں یہ بڑی جماعتوں اور ان کی صف اول کی قیادت کی ناکامی ہے کہ انہوں نے اپنی تحریک کو پنجاب دشمن بنیادوں پر استوار کیا ہے۔ یہ اہداف بھارتی منصوبی ساز اجیت دوول کے نشان زدہ ہیں‘ پھر ہم پی ڈی ایم جلسوں کو کیا سمجھیں؟آخری بات یہ کہ اچکزئی صاحب کے ساتھ سٹیج پر بیٹھے تمام سیاستدان قومی یکجہتی کے قاتل اور ملک کی نصف آبادی کے اس وقت تک مخالف تصور کئے جائیں گے جب تک یہ سیاستدان اس نفرت انگیز سوچ کی مذمت نہیں کرتے ۔ کون تاریخ میں غدار ہے اور کون محب وطن‘ یہ بحث طویل سہی مگر مبہم ہرگز نہیں‘ آج بھی دنیا کے کئی خطے ایسے ہیں جہاں امن پسند اکثریت پرتشدد اور جارحیت پسند اقلیتوں کا کنٹرول ہے۔ پنجاب اور پنجابیوں پر تمام الزامات مستند حوالوں سے غلط ثابت ہوتے ہیں‘ بس یہ کہ پنجابی سکالرز نے مصلحت سے کام لیا اس پروپیگنڈہ کا جواب نہ دیا جس پر الزامات کا بیانیہ پھیلتا گیا‘ نوبت یہاں تک آ گئی کہ کچھ پنجابی بھی اس تاریخی مغالطے سے متاثر ہو گئے۔ (ختم شد)

*Copied*

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int