پاکستان کے حالات بہتر کرنے میں "پی این ایف" کا اھم کردار ھوگا۔ انشاء اللہ

 پاکستان کے حالات بہتر کرنے میں "پی این ایف" کا اھم کردار ھوگا۔ انشاء اللہ 


سیاستدان کے لیے ضروری ھے کہ؛ اسے عوام کے سماجی اختلافات اور معاشی بحران جبکہ ملک کی انتظامیہ کی نااھلی اور اقتصادی پسماندگی کی وجوھات سے آگاھی ھو اور وہ ان کا حل جانتا ھو۔ 


پاکستان میں نہ تو برسرِ اقتدار سیاسی افرد میں صلاحیت ھے اور نہ اپوزیشن کے سیاسی افراد میں اھلیت ھے۔ اس لیے سماجی اختلافات ' معاشی بحران ' انتظامی نا اھلی ' اقتصادی پسماندگی مزید بڑھے گی۔ 


لہٰذا پاکستان کے حالات بہتر ھونے کے فی الحال کوئی امکانات نہیں ھیں۔ کیونکہ؛ 


إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ (13:11) 


الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ ان عادتوں کو نہ بدلے جو اس میں ھیں۔ (11-13) 


پاکستان کے حالات فرشتوں نے بہتر نہیں کرنے اور نہ اسٹیبلشمنٹ سے بہتر ھونے ھیں۔ پاکستان کے حالات پاکستان کی عوام میں سے تیار ھونے والے سیاستدانوں نے ھی ابتر یا بہتر کرنے ھیں۔ 


اس لیے پاکستان کے حالات اس وقت تک بہتر نہیں ھوں گے۔ جب تک ایسے سیاستدان تیار نہیں ھوتے۔ جن کو عوام کے سماجی اختلافات اور معاشی بحران۔ جبکہ ملک کی انتظامیہ کی نااھلی اور اقتصادی پسماندگی کی وجوھات سے آگاھی ھو اور وہ ان کا حل جانتے ھوں۔ 


پنجابی نیشنسلٹ فورم کے زونل آرگنائزر ' سیکشن کوآرڈینیٹر ' ڈپٹی زونل آرگنائزر ' زون اور ڈسٹرکٹ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے میمبر انتہائی تعلیم یافتہ ' مھذب ' باشعور اور سیاسی فھم و فراست والے ھیں۔ اس لیے پاکستان کے حالات بہتر کرنے میں انشاء اللہ پنجابی نیشنسلٹ فورم (پی این ایف) نے اھم کردار ادا کرنا ھے۔ 


پنجابی نیشنسلٹ فورم سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کو پاکستان کی مظلوم قومیں اور پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر اور جنوبی پنجاب و دیہی سندھ کے عربی نژاد کو ظلم و زیادتی کرنے والا سمجھتا ھے۔


پی این ایف کی لیڈرشپ نے پنجابی قوم کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کے لیے جدوجہد کرنے ' پاکستان کی عوام کے سماجی اختلافات ختم کرنے اور پاکستان کے حالات بہتر کرنے کے لیے 3 اھم کام کرنے ھیں۔


1۔ پنجابی قوم میں سیاسی شعور اور فھم و فراست پیدا کرکے پنجابی قوم کی سماجی عزت ' معاشی خوشحالی ' انتظامی بالادستی ' اقتصادی ترقی کروانی ھے۔


2۔ سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی قوموں کے ساتھ پنجابی قوم کے بہترین سماجی ' سیاسی اور معاشی مراسم قائم کروانے ھیں۔ (ھندکو ' کشمیری ' ڈیرہ والی کا شمار پنجابی قوم میں ھوتا ھے)


3۔ پنجاب اور پنجابی قوم کے ساتھ دشمنی رکھنے والے پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر اور جنوبی پنجاب و دیہی سندھ کے عربی نژاد کی سماجی ' سیاسی اور معاشی بالادستی جبکہ پنجابیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے کی عادت ختم کروانی ھے۔

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟