=(سامراجی و استعماری حکمرانو کی ھندوستان پر قبضہ گیری کی تاریخ) +++++++++++++++++++++++++++++++++++++

 *=(سامراجی و استعماری حکمرانو کی ھندوستان پر قبضہ گیری کی تاریخ)

+++++++++++++++++++++++++++++++++++++


*غوری سلطنت سے عمران منگو سامراجی تک مسلسل لوٹ مار بھتہ قبضہ گیری استعمار کے باوجود پٹھان سامراج کی محرومیوں کا ذمہ دار پنجابی ھے ریاست پر ٧٣ سالہ قبضہ بھی ان کی ھوس، لالچ، مفت خور جعلی محرومیوں کا ازالہ نہیں کر سکا ۔


*غوری سلطنت*

1 = 1193 محمد غوری

2 = 1206 قطب الدین ایبک

3 = 1210 آرام شاہ

4 = 1211 التتمش

5 = 1236 ركن الدين فیروز شاہ

6 = 1236 رضیہ سلطان

7 = 1240 معیزالدین بہرام شاہ

8 = 1242 الہ دين مسعود شاہ

9 = 1246 ناصرالدين محمود

10 = 1266 غیاث الدین بلبن

11 = 1286 رنگ كھشرو

12 = 1287 مذدن كےكباد

13 = 1290 شمس الدین كےمرس

*غوری سلطنت اختتام*

(دور حکومت -97 سال تقریبا)


 *خلجي سلطنت*

1 = 1290 جلال الدین فیروز خلجی

2 = 1292 الہ دین خلجی

4 = 1316 شھاب الدین عمر شاہ

5 = 1316 قطب الدین مبارک شاہ

6 = 1320 ناصر الدین خسرو شاہ

*خلجی سلطنت اختتام*

(دور حکومت -30 سال تقریبا)


 *تغلق سلطنت*

1 = 1320 غیاث الدین تغلق (اول)

2 = 1325 محمد بن تغلق (دوم)

3 = 1351 فیروز شاہ تغلق

4 = 1388 غیاث الدین تغلق (دوم)

5 = 1389 ابوبکر شاہ

6 = 1389 محمد تغلق (سوم)

7 = 1394 الیگزینڈر شاہ (اول)

8 = 1394 ناصر الدین شاہ (دوم)

9 = 1395 نصرت شاہ

10 = 1399 ناصرالدين محمدشاہ (دوم)

11 = 1413 دولت شاه

*تغلق سلطنت اختتام*

(دور حکومت -94 سال تقریبا)


 *سعید سلطنت*

1 = 1414 كھجر خان

2 = 1421 معیزالدین مبارک شاہ (دوم)

3 = 1434 محمد شاہ(چہارم)

4 = 1445 الہ دين عالم شاہ

*سعید سلطنت اختتام*

(دور حکومت -37 سال تقریبا)


*لودھی سلطنت*

1 = 1451 بهلول لودھی

2 = 1489 الیگزینڈر لودھی (دوم)

3 = 1517 ابراہیم لودھی

*لودھی سلطنت اختتام*

(دور حکومت -75 سال تقریبا) 


*مغلیہ سلطنت*

1 = 1526 ظہیرالدين بابر

2 = 1530 ہمایوں

*مغلیہ سلطنت اختتام*


*سوري سلطنت*

1 = 1539 شیر شاہ سوری

2 = 1545 اسلام شاہ سوری

3 = 1552 محمود شاہ سوری

4 = 1553 ابراہیم سوری

5 = 1554 پرویز شاہ سوری

6 = 1554 مبارک خان سوری

7 = 1555 الیگزینڈر سوری

*سوری سلطنت اختتام*

(دور حکومت -16 سال تقریبا)


*مغلیہ سلطنت دوبارہ*

1 = 1555 همايوں(دوبارہ گدی نشین)

2 = 1556 جلال الدين اکبر

3 = 1605 جہانگیر سلیم

4 = 1628 شاہ جہاں

5 = 1659 اورنگزیب

6 = 1707 شاہ عالم (اول) 

7 = 1712 بهادر شاہ

8 = 1713 پھاروكھشير

9 = 1719 ريپھد راجت

10 = 1719 ريپھد دولا

11 = 1719 نےكشييار

12 = 1719 محمود شاہ

13 = 1748 احمد شاہ

14 = 1754 عالمگیر

15 = 1759 شاہ عالم

16 = 1806 اکبر شاہ

17 = 1837 بہادر شاہ ظفر

*مغلیہ سلطنت اختتام*

(دور حکومت -315 سال تقریبا)


 *برطانوی راج*

1 = 1858 لارڈ كینگ

2 = 1862 لارڈ جیمز بروس یلگن

3 = 1864 لارڈ جهن لورےنش

4 = 1869 لارڈ رچارڈ میو

5 = 1872 لارڈ نورتھبك

6 = 1876 لارڈ ایڈورڈ لٹین

7 = 1880 لارڈ جيورج ریپن

8 = 1884 لارڈ ڈفرین

9 = 1888 لارڈ هنني لےسڈون

10 = 1894 لارڈ وکٹر بروس یلگن

11 = 1899 لارڈ جيورج كرجھن

12 = 1905 لارڈ گلبرٹ منٹو

13 = 1910 لارڈ چارلس هارڈج

14 = 1916 لارڈ فریڈرک سےلمسپھورڈ

15 = 1921 لارڈ ركس ايجےك رڈيگ

16 = 1926 لارڈ ایڈورڈ ارون

17 = 1931 لارڈ پھرمےن وےلگدن

18 = 1936 لارڈ اےلےكجد لنلتھگو

19 = 1943 لارڈ اركبالڈ وےوےل

20 = 1947 لارڈ ماؤنٹ بیٹن

*برطانوی سامراج کا اختتام*


*15 آگسٹ 1947 سے آج تک مہاجر پٹھان اشرافیہ گٹھ جوڑ کبھی پٹھان مہاجر سیاسی جرنیلوں اور کبھی نام نہاد ہائبرڈ عسکری سویلین حکمرانوں کی شکل میں پاکستان کو توڑ ، لوٹ اور برباد کررہا ھے اور حد یہ ھے کہ ابھی بھی محروم ھیں اور گالی پنجاب پنجابی کیلئے ..


Dr zulfiqar rajpoot


*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int