پاکستان جس سر زمین پر بنا وہ انڈس سولائیزیشن کی زمین ھے اس سر زمین کے وارث پنجابی ، سندھی براہوی سمیت اس خطے کی تمام قومیں ھیں اور یہ خطہ ہزاروں سال پرامن رہا اور یہاں کی قوموں میں کسی تنازع یا لڑائی کا کوئی تاریخی حوالہ نہیں ملتا ،

 پاکستان جس سر زمین پر بنا وہ انڈس سولائیزیشن کی زمین ھے اس سر زمین کے وارث پنجابی ، سندھی براہوی سمیت اس خطے کی تمام قومیں ھیں اور یہ خطہ ہزاروں سال پرامن رہا اور یہاں کی قوموں میں کسی تنازع یا لڑائی کا کوئی تاریخی حوالہ نہیں ملتا ، 

جبکہ اس خطے میں غوری غزنوی ابدالی ڈاکوؤں کے کرائے کے فوجی بن کر آنے والے افغانی ڈکیتوں اور دیگر حملہ آوروں کے ساتھ آنے والے کرد قبضہ گیروں اور گنگا جمنا تہذیب والے ھندی بولنے اور آج خود کو مہاجر کہلوانے والے یو پی سی پی کے سازشیوں کے علاقوں کی تاریخ دیکھیں تو قتل غارت کی ایک لمبی تاریخ ملتی ھے اور اس خطے میں نفرت فساد قتل غارت میں بھی یہ ھی قومیں ملوث ھیں 

لسانیت عصبیت علاقائیت کا نام لئے جتنی بھی تنظیمیں اور گروہ ھیں ان سب کے سرخیل یہ ھی ھیں چاھے وہ جئے سندھ تحریک ھو ، بی ایل اے ھو ایم کیو ایم ھو یا پی ٹی ایم آپ کو نسلی فسادات کی سرپرستی اور قیادت کرتے یہ ھی لوگ ملیں گے پاکستان کے علاوہ بھی جہاں یہ قومیں ھیں وہاں کے حالات پر نظر گھمائیں تو وہ علاقے بھی جہنم کا نقشہ پیش کرتے ھیں چاھے وہ انڈیا کا یوپی ھو افغانستان کا پٹھان ایریا ھو ایران ترکی عراق شام کا کرد ایریا ھو کوئی بھی امن میں نہیں ، پاکستان بننے سے پہلے اور بعد اس خطے کے امن و سکون کو برباد کرنے والوں میں بھی یہ ھی لوگ نمایاں ھیں ..

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟