پنجاب کی تقسیم: جو پنجاب سے جدا ہوا مٹ گیا۔ پنجاب دھرتی کے جنوب کے چند اضلاع کے وہ پنجابی بھائ جو علیحدہ صوبہ بنانا چاہ رہے ہیں

پنجاب کی تقسیم:

جو پنجاب سے جدا ہوا مٹ گیا۔

پنجاب دھرتی کے جنوب کے چند اضلاع کے وہ پنجابی  جو پنجاب علیحدہ صوبہ بنانا چاہ رہے ہیں پنجاب کو پھر سے کاٹ کر، تو کچھ تاریخی حقائق آپ کو بتادوں،

آپ نے دیکھا کہ سو سال پہلے انگریز نے پنجابی علاقے کو کاٹ کر صوبہ سرحد بنایا جہاں اس وقت ہزارہ ہندکوہ پنجابیوں اور ڈیرہ وال پنجابیوں کی اکثریت تھی، لیکن آج وہاں ان پنجابیوں کا کیا حال ہوچکا ہے، وہ وہاں اقلیت بن چکے ہیں اور پنجابی علاقے کا نام پختونخواہ رکھ دیا گیا ہے،

اسی طرح آپ کے ساتھ کریں گے یہ لوگ، اگر علیحدہ صوبہ بن گیا جنوب کے اضلاع کا تو آہستہ آہستہ آپ مقامی پنجابیوں کو بھی اقلیت میں بدل دیا جائے گا اور ایک دن اس علاقے کا نام بھی یا تو پختونخواہ ہوگا یا پھر آپ کو بلوچستان یا سندھ کا حصہ بنادیا جائے گا۔

سندھ پر بھی آج مقامی سماٹ سندھیوں کی بجائے بلوچ اور شاہ حکمران ہیں، بلوچستان جو براہویوں کا علاقہ تھا وہاں مقامی براہویوں کی شناخت بدل دی گئ ان کی زمین پر قبضہ ہوگیا،

یحیی خان کون تھا ، ایوب خان کون تھا ، عمران خان کون ھے ، جہانگیر خان ترین کون ہے، عثمان بزدار کون ہے، 

عثمان بزدار وہ شخص ہے جو بلوچستان کے اختر مینگل کے ساتھ مل کر پنجاب کے اضلاع کو بلوچستان میں شامل کرنے کی تحریک چلاتا رہا۔

اسی طرح جموں کشمیر کو پنجاب سے علیحدہ کیا گیا انگریز کی طرف سے تو اس کا آج کیا حال ہوچکا وہ سب کے سامنے ہے،

لہذا جو بھی پنجاب سے علیحدہ ہوا اسے دبا دیا گیا،

اپنے پنجاب سے جڑے رہیں تو مضبوط رہیں تو شناخت بچے گی چاھے ملتانی ھو ریاستی ھو جھنگوچی ھو یا ڈیرہ آلی ، باقی ھندکو ، براہوی یا سماٹ کی حالت آپ کے سامنے ھے اپنے علاقے میں اکثریت میں ھوتے ھوئے اپنی شناخت گم کر بیٹھے ھیں 

باقی الله کی رضا .

*Copied*

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int