ایک لمحے کیلئے سوچیں یہ بندہ کوئی انسپکٹر ، ڈی ایس پی وغیرہ ھوتا اور مارا جاتا ، کیا ایسا ھی سناٹا ھوتا جیسے کوئی جانور مارا گیا؟؟؟ طوائف میڈیا ایسے ھی امریکہ کی دلالی کر رہا ھوتا ؟؟؟ یا یہ بندہ سندھ بلوچستان یا کے پی کے کا ہاری زمیندار یا کسان ھوتا تب بھی اتنا ھی سناٹا ھوتا ؟؟؟

 ایک لمحے کیلئے سوچیں یہ بندہ کوئی انسپکٹر ، ڈی ایس پی وغیرہ ھوتا اور مارا جاتا ، کیا ایسا ھی سناٹا ھوتا جیسے کوئی جانور مارا گیا؟؟؟ 

 طوائف میڈیا ایسے ھی امریکہ کی دلالی کر رہا ھوتا ؟؟؟

یا 

یہ بندہ سندھ بلوچستان یا کے پی کے کا ہاری زمیندار یا کسان ھوتا تب بھی اتنا ھی سناٹا ھوتا ؟؟؟

میڈیا گونگا ھوتا ؟؟؟

حکومت پر کوئی اثر نہ ھوتا ؟؟؟


نہیں جناب اب تک طوفان اٹھ چکا ھوتا ، ہر طرف اس کے بچوں کے یتیم ھونے کا چرچا ھوتا حکومت کی طرف سے امداد اور بچوں کو نوکری دینے کے بیانات ھوتے ، صوبے کے وزیراعلی مرحوم کے گھر ھوتے تصویریں اور خصوصی پروگرام ھوتے ،

لیکن یہ مرنے والا تو پنجاب سے تھا اور پنجابی تھا کوئی بات نہیں ایسا ھوتا رہتا ھے ہاں اگر سندھ بلوچستان کے پی کے میں کسان مظاہرے میں قتل ھوتا تو پھر پتہ چلتا کہ قاتلوں کی پتلونیں کیسے اترتی ھیں ،

پنجاب اور پنجابی پر ھونے والے ظلم اور ناانصافی کا بڑا ذمہ دار خود پنجاب کا پنجابی ھے جب تک پنجاب کا پنجابی صحیح معنوں میں پنجابی نہیں بنے گا جاگے گا نہیں ایسا ھوتا رھے گا کبھی ساہیوال جیسا سانحہ کبھی شیخوپورہ میں بھتے والا سانحہ تو کبھی اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنے والے کسان کے قتل کا سانحہ .

اور ایسے سانحات پر مکمل گونگا بہرہ اندھا پنجاب کا عدالتی نظام ، حکومت اور پنجاب کا بیحس پنجابی ..

«افضل پنجابی»

*


PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )