ن یو پی سی پی اشرافیہ کا پنجاب اور پنجابی پر ایک اور وار...

 *گھوٹکی، دادو، شکارپور، بدین، نواب شاہ، خیرپور وغیرہ کے علاقوں کے تقریباً 126 کنوؤں سے گیس نکلتی ھے*

 *پاکستان کو ریاستِ یہودیہ بنانے کے مشن پر قائم حاکم، جو جاپان کی سرحد جرمنی سے ملا رہا تھا، اسے شاید یہ بھی پتا نہ ھو کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی گیس کا %70 حصہ سندھ سے سپلائی ہوتا ھے*


*سوٹے باز چرسی کوکینی پٹھان صاحب نے بنی گالا میں بیٹھ کر شکارپور اور گھوٹکی والوں پر حکم صادر کردیا کہ آپ اور پورا سندھ چار مہینوں کے لئے گاڑی میں گیس استعمال نہیں کرسکتا اور اس دوران سندھ کے تمام سی این جی سٹیشنز بند رہینگے۔*

*جبکہ یہ ہی گیس ملتان فيصل آباد، لاهور، پنڈی، اسلام آباد اور پشاور میں دستیاب ہوگی*

*وہاں کے لوگ اپنی گاڑیوں میں گیس ڈلوا کے جب سندھ آئیں گے تو سندھ میں پنجاب اور پنجابی کیلئے کیا نیک جذبات پیدا ھوں گے ؟؟؟ یقینا نہیں ، تو پھر کیا سندھ کے لوگوں میں پنجاب اور پنجابی کیلئے نفرت نہیں ھوگی ؟؟؟

 یہ ھی کھیل پچھلے ستر سال سے پٹھان اور یو پی سی پی اشرافیہ پاکستان اور پنجاب سے کھیل رھی ھے اپنا اقتدار پکا کرنے کیلئے انڈس سولائزیشن کی دو بڑی قوموں پنجابی سندھی کو لڑاؤ اور براہوی کو کرد سے دبا کر رکھو .

 ان انگریز کے مفادات کے محافظ کتا نہلاؤ غلاموں کو اسی طرح کی عسکری جمھوریت یا ڈکٹیٹر شپ سوٹ کرتی ھے کیونکہ یہ سب پاکستان کی کل آبادی کا صرف پندرہ فیصد ھیں باقی پچاسی فیصد پر حکومت کرنے کیلئے یہ ھمیشہ بوٹ چاٹتے ھیں اور لڑاؤ اور حکومت کرو والا اپنے آقا کا فارمولہ استعمال کرکے حکومت کرتے اور آپنے غیر ملکی آقاؤں کا ایجنڈا پورا کرتے ھیں *

سندھیو ، پنجابیو اور براہوی بھائیو تھوڑا نہیں پورا سوچو .

*اس ناانصافی پر آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے والوں کو یہ پٹھان اور یو پی سی پی والے انگریز کے پٹھو تعصبی اور غدار کا تمغہ عنایت کرتے آئے ھیں جیسا انھوں فاطمہ جناح سے لیکر نواز شریف تک تمام سیاست دانوں کو دیا ھے جو پاکستان کے اکثریتی عوام کے حقوق کی بات کرے اور پٹھان اور یو پی سی پی والوں کے غلیظ منصوبے اور ایجنڈے سے ٹکرائے*

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int