گورنر راج نہیں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی سازش ھو رھی ھے۔

 گورنر راج نہیں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی سازش ھو رھی ھے۔


کراچی کے ھندوستانی مھاجروں کی پاکستان کی وفاقی حکومت میں موجودگی درج ذیل ھے؛


01۔ عارف علوی صدر پاکستان = ھندوستانی مھاجر


02۔ عمران اسماعیل گورنر سندھ = ھندوستانی مھاجر


03۔ اسد عمر وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ = ھندوستانی مھاجر


04۔ علی حیدر زیدی وفاقی وزیر جہاز رانی = ھندوستانی مھاجر


05۔ فروغ نسیم وفاقی وزیر قانوں = ھندوستانی مھاجر


06۔ امین الحق وفاقی وزیر ٹیکنالوجی = ھندوستانی مھاجر


07۔ فیصل واوڈھا وفاقی وزیر واٹر ریسورسز = ھندوستانی مھاجر


08۔ عبدالرزاق داؤد وفاقی مشیر کامرس اینڈ انڈسٹری = ھندوستانی مھاجر


09۔ ڈاکٹر عشرت حسین وفاقی مشیر ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری = ھندوستانی مھاجر


10۔ خالد جاوید خان اٹارنی جنرل پاکستان = ھندوستانی مھاجر


کراچی میں قومی اسمبلی کی 21 نشستیں ھیں۔ لیکن کراچی سے پاکستان کی وفاقی حکومت کے اھم عہدوں پر کراچی کے 10 ھندوستانی مھاجر ھیں۔


سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور نہیں ھو رھا ھے۔ بلکہ کراچی سے پاکستان کی وفاقی حکومت کے اھم عہدوں پر فائز کراچی کے ھندوستانی مھاجر کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی سازش کر رھے ھیں۔


پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد ھونے والے واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ھے کہ

کیپٹن صفدر کی گرفتاری آئی جی سندھ کے اغواء سے رینجرز اور اور باجوہ کو کوئی فائدہ نہیں ھوا بلکہ وہ نقصان میں گئے ھیں 

اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ یہ سب کون کر رہا ھے ؟؟؟

مہاجر پٹھان اقلیتی لابی جو پاکستان پر پچھلے ستر سال اقتدار و اختیار سمیت  قابض ھے کو جمھوریت سوٹ نہیں کرتی کیونکہ الیکشن سے وہ اقتدار واختیار تک نہیں پہنچ سکتے اس لئے ان کو آمریت ھی سوٹ کرتی ھے 

کراچی والے واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑی لگتے ھیں کراچی کو وفاق کے کنٹرول میں دینے سے اس اقلیت کو فائدہ ھے کیونکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ فارن سروس اور بیوروکریسی پر آج بھی ان کا اثر رسوخ زیادہ ھے اور کراچی کے مرکز کے پاس ھونے سے براہ راست فائدہ ھندوستانی مہاجر کو ھوگا 

جو اصل گیم لگتی ھے موجودہ واقعات کے پیچھے ....

*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟