پاکستانی دو بڑی قوموں پنجابی اور سندھی پر کس کی بالادستی ھے؟؟؟

 پاکستانی دو بڑی قوموں پنجابی اور سندھی پر کس کی بالادستی ھے؟؟؟


پاکستان کی تشکیل سے بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد سے آج تک اقتدار و اختیار پر غلبہ یو پی سی پی اشرافیہ اور پٹھان اشرافیہ کا رہا بھٹو کے بعد بننے والی سویلین حکومت کیلئے سندھی وزیراعظم بے نظیر بھٹو 1988 میں منتخب ھوئیں لیکن 1990 میں پاکستان کے پٹھان اشرافیہ کے صدر غلام اسحاق خان نے سندھی بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست کردی۔ اس وقت پاکستان کی فوج کا سربراہ مھاجر اشرافیہ کا جنرل اسلم بیگ تھا۔ سندھی بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست ھونے کے بعد پنجابی نواز شریف پہلی بار 1990 میں پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ھوا لیکن 1993 میں پاکستان کے پٹھان اشرافیہ صدر غلام اسحاق خان نے پنجابی نواز شریف کی حکومت برخاست کردی۔ اس وقت پاکستان کی فوج کا سربراہ کاکڑ پٹھان جنرل عبدالوحید تھا۔


سندھی بے نظیر بھٹو دوسری بار 1993 میں پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ھوئیں لیکن 1997 میں پاکستان کے بلوچ فیوڈل صدر فاروق لغاری نے سندھی بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست کردی۔ اس وقت پاکستان کی فوج کا سربراہ ککے زئی پٹھان جنرل جہانگیر کرامت تھا۔ سندھی بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست ھونے کے بعد پنجابی نواز شریف دوسری بار 1997 میں پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ھوا لیکن 1999 میں پاکستان کی فوج کے سربراہ مھاجر اشرافیہ کے جنرل پرویز مشرف نے پنجابی نواز شریف کی حکومت برخاست کرکے خود پاکستان کی حکومت سمبھال لی جو 2008 تک رھی۔


مھاجر اشرافیہ کے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت کے دور میں سندھی بے نظیر بھٹو اور پنجابی نواز شریف کو پاکستان سے باھر رھنا پڑا۔ 2007 میں عام انتخابات کا اعلان ھونے کی وجہ سے سندھی بے نظیر بھٹو نے مھاجر جنرل پرویز مشرف کی خواھش کے برعکس پاکستان پہنچ کر انتخابی مہہم شروع کردی تو پاکستان کے آمر حکمراں مھاجر جنرل پرویز مشرف اور سندھی بے نظیر بھٹو کے شوھر بلوچ فیوڈل آصف زرداری نے سندھی بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں قتل کر وا دیا۔


پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی ھے اور دوسری بڑی قوم سندھی ھے۔ لیکن اس وقت بھی پاکستان کا صدر ھندوستانی مھاجر اشرافیہ سے ھے۔ پاکستان کا وزیر اعظم پٹھان اشرافیہ سے ھے۔ پاکستان کی سینٹ کا چیئرمین بلوچ فیوڈل ھے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کا اسپیکر پٹھان اشرافیہ سے ھے۔ پاکستان کی سینٹ کا ڈپٹی چیئرمین ھندوستانی مھاجر اشرافیہ سے ھے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر پٹھان اشرافیہ سے ھے۔ حتی کہ پنجاب کا وزیر اعلی تک بلوچ فیوڈل ھے۔


ھندوستانی مھاجر ' پٹھان اور بلوچ اپنی اشرافیہ اور فیوڈلز کے بیانیہ پر چلتے ھوئے پھر بھی پنجابیوں کو ذلیل و خوار کرنے سے باز نہیں آتے۔ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کی رٹ لگائے رکھتے ھیں اور ڈھنڈھورا پیٹتے رھتے ھیں کہ؛ پاکستان پر پنجابیوں کی حکمرانی ھے۔ پنجاب ان کے وسائل پر پلتا ھے۔ پنجابی ان کو حقوق نہیں دیتے۔ اس پروپیگنڈہ کا پنجابی قوم کی طرف سے جواب نہیں دیا جاتا اس لیے پاکستان کی دوسری قومیں بھی ھندوستانی مھاجر ' پٹھان اور بلوچ فیوڈلز و اشرافیہ کے پروپیگنڈہ کو درست تسلیم کرکے پنجابیوں سے بدظن رھتی ھیں۔


سندھی در اصل سماٹ ھیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی آبادی پنجابی ھے ، جبکہ دوسری بڑی آبادی سماٹ ' براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی ' پٹھان ' بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کی ھے۔


پاکستان کی آبادی میں سے 15٪ آبادی کی پٹھان اشرافیہ ' بلوچ فیوڈلز ' ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سندھی پر اپنی مکاری' عیاری اور بدمعاشی کے ذریعے بالادستی قائم کی ھوئی ھے تو پھر پاکستان کی باقی 85% آبادی میں سے براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کا کیا حال ھوگا؟


کیا پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ کے ھونے کی وجہ سے پاکستان کا صدر ' وزیر اعظم ' سینٹ کا چیئرمین ' قومی اسمبلی کا اسپیکر ' سینٹ کا ڈپٹی چیئرمین ' قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر ' پنجاب کا وزیر اعلی ' سندھ کا وزیر اعلیٰ پنجابی اور سماٹ نہیں ھونے چاھئیں؟


کیا پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ کو پاکستان کی صنعت ' تجارت ' ذراٰعت ' ھنرمندی کے پیشوں ' سیاست ' صحافت ' سول سروسز ' ملٹری سروسز کے شعبوں اور بڑے بڑے شھروں میں چھایا ھوا نظر نہیں آنا چاھیے؟


پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ جب 15% کی مکاری عیاری اور بدمعاشی سے نجات حاصل نہیں کر پا رھیں تو پھر براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کس طرح ھندوستانی مھاجر اشرافیہ ' پٹھان اشرافیہ اور بلوچ فیوڈلز کے تسلط سے نجات حاصل کر سکیں گے؟؟؟


پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی اور دوسری بڑی قوم سماٹ میں سیاسی شعور پیدا نہ ھونے تک پاکستان میں سماجی و سیاسی استحکام اور انتظامی و اقتصادی بہتری نہیں آسکتی کیونکہ؛


1۔ نہ ھندوستانی مھاجر اشرافیہ ' پٹھان اشرافیہ اور بلوچ فیوڈلز کی بالادستی اور بلیک میلنگ سے پنجابی اور سماٹ کو نجات حاصل ھونی ھے۔


2۔ نہ براھوئی ' ھندکو ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' بونیری ' ڈیرہ والی ' گجراتی ' راجستھانی کو ھندوستانی اشرافیہ اور فیوڈلز کے ظلم اور جبر سے نجات ملنی ھے۔


3. اور نہ ھی غریب ھندوستانی مہاجروں ، غریب پٹھانوں اور غریب بلوچوں کی غربت اور پسماندگی کم ھونی ھے 


کیونکہ ان اشرافیہ اور فیوڈلز کی کوئی قوم نہیں ھوتی یہ اپنی قوموں کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے قربانی کا بکرا بناتے ھیں .

جب تک اکثریت کو اس کا حق اقتدار و اختیار نہیں ملتا اقلیت بھی پستی ھی رھے گی اور مفاد پرست اشرافیہ اور فیوڈلز انہیں لڑاتے اور حکومت کرتے رھیں گے ...


*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int