کیا کبھی کسی سندھی پٹھان بلوچ مہاجر نے آپنی ہر محرومی اور پریشانی کا الزام پنجابی پر لگانے سے پہلے اس بات پر غور کیا ؟؟؟؟

 کیا کبھی کسی بلوچ پٹھان اور سندھی نے اپنی ہر محرومی اور پسماندگی کا ملبہ پنجاب اور پنجابی پر ڈالنے سے پہلے اس حقیقت پر غور کیا اور سوچا کہ،

۱. ان کے نام پر سیاست کرنے والے کیسے مختصر عرصے میں ارب کھرب پتی ھو گئے ؟؟؟؟

۲. ان کے ووٹوں سے منتخب ھونے والے علاقے کے فنڈز کہاں گم کرتے ھیں ، ان کی جائیدادیں اور ملکیتیں اچانک کیسے دگنی تگنی ھو جاتی ھیں ، ان کے بچے کیسے ملک سے باہر پڑھتے ھیں ؟؟؟ 

۳. بلوچستان کی محرومی کا رونا رونے والے سردار مثال کے طور پر اختر مینگل نے جو اربوں روپے اپنا ضمیر بیچ کر سیلیکٹیڈ حکمرانوں سے لئے ان سے غریب اور مظلوم بلوچوں اور بلوچستان کیلئے کیا ترقیاتی کام کروائے ؟؟؟

۴.کے پی کے میں پٹھان کے نام پر سیاست کرنے والے کیسے کچھ ھی عرصے میں ارب پتی ھو گئے ؟؟؟

۵. سندھ کے لیڈر لسانی یا سیاسی کیسے بڑی جائیدادوں ، جاگیروں اور بینک بیلنس کے مالک ھو گئے ؟؟؟

غریب سندھی بلوچ اور پٹھان جب تک اپنی صفوں میں موجود ان لٹیروں اور غاصبوں کو پہچاننے کی بجائے اپنی محرومیوں اور مشکلات کیلئے پنجاب اور پنجابی کو الزام دیتے اور گالیاں نکالتے رھیں گے نہ ان کی غربت اور پسماندگی دور ھونی ھے اور نہ ھی امن اور خوشحالی آنی ھے .


*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟