پنجاب گیس پٹرول کھا گیا یہ سن سن کر کان پک گئے ھیں

 ناراض مت ہونا اس پوسٹ کو انتظامی نقطہ نظر سے دیکھنا... 


 سندھ 50 فیصد سے زائد آئل اور گیس پروڈیوس کرتا ہے اسی طرح کے پی کے اور بلوچستان بھی گیس کی پیداوار دیتا ھے جبکہ پنجاب بھی اپنا چھوٹا سا حصہ پروڈیوس کرتا ھے...

 مجھے یہ سمجھائیں کہ پنجاب کا صارف جب پیٹرول اور گیس لیتا ھے تو کیا وہ اسے فری ملتی ھے؟

 وہ پیسے ادا کرتا ھے... 

فرض کریں پنجاب کو دونوں چیزوں کی فراہمی بند کردی جائے تو وہ کہاں سے یہ خریدے گا؟ 

قطر اور سعودی عرب سے... جی ہاں... شاہد خاقان عباسی نے گیس ٹرمینل بنایا جس کے سروس چارج بل میں شامل ہوتے ہیں انرجی کے بغیر کوئی بھی صوبہ نہیں چل سکتا... 

اب سوال اٹھائیں گے کہ گیس کراچی کے راستے جائے گی پھر آپ کیسے انرجی پنجاب لے کر جائیں گے؟ 

جی بھائی پاکستان ایک فیڈریشن ھے ایک صوبہ کے عوام کسٹمر ھے وہ متبادل طریقے پر حق رکھتا ھے اور اس بات کی اجازت آئین پاکستان دیتا ھے.. 

جب پنجاب آپ کی انرجی نہیں لے گا تو سرپلس انرجی آپ کہاں لے جائیں گے؟ فروخت نہیں ہوگی تو اسے ضائع سمجھیں اور نہ اس کے آپ کے پیسے ملیں گے...

 بجلی کے بلوں میں ادائیگی کے حوالے سے پنجاب پہلے نمبر پر ھے..

 اس وقت بجلی کے سب سے زیادہ پلانٹ بھی پنجاب میں لگ چکے ہیں... پنج آب پانچ دریاؤں کا پانی رکھنے والا صوبہ ھے دو دریا کے پی سے آتے ہیں باقی پنجاب سے.. پانی پر بات کروں گا آپ ناراض ہوجائیں گے... پنجاب کے پاس انرجی کا متبادل ھے آپ کے پاس پانی کا کونسا متبادل ھے؟ 

پنجاب جی ڈی پی میں سب سے بڑا حصہ رکھتا ھے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے اپنا حصہ سے بھی زیادہ آپ کے حق میں سرینڈر کررکھا ھے... 

حکومتی ویب سائیٹس آپ کو دعوت ثبوت دے رہی ہیں... 

یہ ساری گردان آپ کو یہ جتلانا نہیں ھے کہ پنجاب کوئی سپرمین ریاست ھے.. البتہ اس کا جتنا حجم اور آبادی ھے اتنا اس کا حق بنتا ھے... 

دوسری بات جو اس پوسٹ کا اصل مقصد ھے ان جھوٹے سوالوں اور پروپیگنڈہ کا جواب دینا مقصود تھا جسے سن سن کر ہمارے کان پک چکے ہیں...جیو اور جینے دو... 

کُو ایگسسٹنس پیدا کرو... خود کو نکھارو... جتنا آپ کا حق بنتا ھے اسے لیں اور دوسروں کا حق تسلیم کرنے کی ہمت اور جذبہ پیدا کریں.. وسلام

*ملک امتیاز دی وال توں کاپی کج ترمیم نال*


*PNF SINDH*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int