حیات بلوچ کیلئے زمین آسمان سر پر اٹھانے والے منافق بلوچستان میں بی ایل اے، لشکر کے ھاتھوں درجنوں بیگناہ غریب پنجابیوں پر گونگے کیوں بن جاتے ھیں اسے منافقت کہتے ھیں

 حیات بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ھے لیکن اس سفاکیت اور ظلم سے بڑا جرم یہ ھے کہ اس طرح کے قتل کے بدلے بلوچستان میں کسی یا کئی بیگناہ پنجابیوں کی جان لے لی جائے گی لیکن حیات کی قتل پر زور شور سے نوحہ پڑھنے والوں کو ردعمل میں بیگناہ غریب پنجابی کی جان جانے کا کوئی دکھ اور ملال نہیں ھوگا

 کیا پنجابی کسی ماں باپ کے بیٹے کسی بہن بھائی کے بھائی کسی بیٹی کے باپ نہیں ھوتے ؟؟

کیوں ان کے بیہمانہ قتل پر خاموش رھتے ھو ؟؟؟

حیات کو اٹھانے اور مارنے والے ایف سی والے ھیں مگر مجال ھے حیات بلوچ کیلئے مگر مچھ کے آنسو بہانے والے پٹھان کا نام بھی لین بس آنکھیں بند کرکے ہر بلنڈر اور ظلم پنجاب اور پنجابی کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا ھے 

یاد رکھو بیگناہ مارا جانے والا ہر شخص مظوم ھے اور اس کیلئے آواز اٹھانا بہادری کا کام ھے چاھے وہ ایف سی کے ھاتھوں مارا جائے یا را موساد کے پالتو بی ایل اے ، پی ٹی ایم یا اس قبیل کے کسی بھی گروہ کے ھاتھوں .

اگر کوئی صرف ایف سی یا ایجنسی کے ھاتھوں بیگناہ  مارے جانے والے کیلئے تو شور مچائے اور بی ایل اے ، پی ٹی ایم یا اس قبیل کے را موساد فنڈیڈ ایجنٹوں کے ھاتھوں بیگناہ مارے گئے پنجابیوں پر لب کشائی کرنے کی بجائے یہ کہے کہ پنجابی فوج کے خلاف ردعمل ھے تو وہ بڑا منافق اور جھوٹا ھے جو صرف غیر ملکی ڈالر حلال کر رہا ھے کیونکہ فوج میں چالیس فیصد سے زائد غیر پنجابی ھیں اور بلوچستان میں تو زیادہ تر آپریشن ایف سی کر رھی ھے جس میں نوے فیصد پٹھان ھیں 

اب یہ منافقت اور دھول جھونکنا لوگوں کی آنکھوں سے نہیں چھپ سکتا ڈالر کے پجاریو ....


*PNF Sindh*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )