مسنگ پرسن ڈرامہ

 پاکستان میں جاری ‏"‎‎مسنگ پرسن" ڈرامہ کیا ھے؟


بی ایل اے اور پی ٹی ایم  ‏"‎‎مسنگ پرسن" ڈالر حاصل کرنے کے بعد افغانستان یا بھارت کے کسی کیمپ میں دھشتگردی کی تربیت حاصل کر رھے ھوتے ھیں۔ 


جبکہ "مسنگ پرسن" کے لیے مظاھرے کرنے والے افغانستان یا بھارت سے ملنے والی رقم خرچ کرکے پٹھان اور بلوچ ‏"‎‎مسنگ پرسن" کے لیے مظاھرے شروع کر دیتے ھیں۔ 


یہ مسنگ پرسن کسی دہشت گردی کی واردات میں جب مرتے ھیں تو پتہ چلتا ھے کہ یہ مسنگ اپنی مرضی سے افغانستان اور انڈیا مسنگ ھوتے ھیں ٹریننگ لیتے ھیں اور باقی مسنگ پرسن دہشت گردی کرتے ھوئے مسنگ ھی رھتے جب تک کسی دہشت گردی یا مقابلے میں مارے جائیں یا گرفتار ھوں 

یہ مسنگ پرسن دہشت گردی اور قتل غارت بھی کرتے ھیں مسنگ بھی رھتے ھیں اور انکے گھر والے اصلیت سے باخبر یا بے خبر (کچھ والدین کو پتہ ھی نہیں ھوتا کہ ان کی اولاد افغانستان یا انڈیا ٹریننگ لینے گئے ھیں انھیں بی ایل اے یہ ھی بتاتی اور پڑھاتی ھے کہ ان کے بچوں کو ایجنسیوں نے اٹھایا ھے)  مظلومیت کا رونا بھی روتے رھتے ھیں  


اس طرح بی ایل اے اور پی ٹی ایم کی دو طرفہ کمائی ھو رھی ھے۔ لیکن پاکستان کی عوام باالخصوص پنجاب اور پنجابی کے لیے سیاسی، سماجی ، معاشی ، انتظامی اور اقتصادی مسائل پیدا ھوتے رھتے ھیں۔

*PNF Sindh Zone*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )