پنجاب اور پنجابی کے خلاف طاقت اور اقتدار کا کھیل

پاکستان بنتے ھی پٹھان اور یوپی سی پی والے نئے بنے پاکستان کی فوج اور افسر شاھی کے اھم عہدوں پر قابض ھوگئے لیکن اقلیت میں ھونے کی وجہ سے انھیں خدشہ تھا کہ اس علاقے کی اکثریت جو کہ سپتہ سندھو یا انڈس سولائیزیشن کی قوموں سے تعلق رکھتی تھی کہیں متحد ھو کر ان کی اجارہ داری کیلئے خطرہ نہ بنے اس خطرے سے بچنے کیلئے یو پی سی پی اشرافیہ اور پٹھان اشرافیہ نے اپنے آقا فرنگی انگریز کا لڑاؤ اور حکومت کرو والا فارمولا استعمال کیا اور اپنے اس کام کو موثر طریقے سے پورا کرنے کیلئے بلوچ جو کہ پنجاب میں سرائیکی سندھ میں سندھی اور بلوچستان میں بلوچ بن کر پنجاب سندھ اور بلوچستان کے اصل زمین زادوں پنجابی سندھی سماٹ اور براہوی پر آپنی انگریز کی دی ھوئی جاگیروں کی وجہ سے آقا بن کر مسلط تھے کو اپنے ساتھ ملایا کیونکہ ان تینوں کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے تھے

 اس پلان کی تکمیل کیلئے،،

 پنجابی کو اسلام اور پاکستان کا ٹھیکہ دے کر ان دراندازوں پٹھانوں بلوچوں اور مہاجروں نے اپنی لوٹ مار کو تحفظ دیا بنگالیوں سے اسی لئے پٹھان اور مھاجر بیوروکریسی اور سیاسی جرنیلوں نے جان چھڑائی کہ وہ کباب میں ھڈی نہ بنے اس کام کیلئے انھوں نے فوج کو استعمال کرکے ایک تیر سے دو شکار کئے جس میں فوجی رینک میں اکثریت پنجابی تھے اپنا مفاد نکالا اور ملبہ پنجابی پر ڈال دیا 

پٹھان بلوچ اور مھاجر اس خطے کے زمین زادے ھوتے تو وہ یہاں امن خوشحالی اور پیار محبت کی بات کرتے یہ اس خطے پر قابض ھوئے اور اصل زمین زادوں پنجابی سندھی اور براہوی کو آپس لڑواتے رھے اپنے آقا انگریز کی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کرو پر عمل کرتے رھے 

پر یہ بات صرف اصل زمین زادے ھی سمجھ سکتے ھیں افغانستان انڈیا اسرائیل امریکہ اور برطانیہ سے فنڈنگ لے کر پاکستان کو گالیاں دینے والے نہیں سمجھ سکتے..

*PNF Sindh Zone*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟