سندھ کا پنجابی اور سیاسی سماجی حکمت عملی

سندھ میں اردو بولنے والوں اور سندھ کے پنجابیوں کی سیاسی اور سماجی حیثیت میں زمین آسمان کا فرق ھے جبکہ آبادی میں انیس بیس فرق ھے 
جب بھٹو نے سندھ میں سندھی لینگویج کے مسئلے پر ھونے والے تنازع میں یہ طے کیا تھا کہ اگر وزیراعلی سندھی ھوگا تو گورنر غیر سندھی اسی طرح سرکاری نوکریوں کیلئے بھی ایسا ھی طے ھوا اس کا مطلب تھا کہ سندھ میں بسنے والے تمام غیر سندھیوں پر اس کا اطلاق ھوتا  لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ھوا اور یہ حق صرف اردو بولنے والوں اور پٹھانوں کو ملا اور پنجابی محروم رکھے گئے
جب تمام لسانی اور عصبی نفرت کا رخ سندھ کے پنجابی کی طرف موڑ دیا گیا تو سندھ کے پنجابی کی تمام توجہ اپنے تحفظ اور بچاؤ کی طرف ھو گئی اور وہ سیاسی اور سماجی طور پر ایک چھوٹی اقلیت پٹھان سے بھی پیچھے چلا گیا اسی لئے سندھ سے مہاجر اور پٹھان کے ایم پی اے ایم این اے سینیٹر اور انکی سیاست اور قوم پرستی کسی کو بری نہیں لگتی لیکن پنجابی جب اپنے سیاسی سماجی حقوق کیلئے کوئی آواز اٹھاتا ھے تو طوفان کھڑا ھو جاتاھے یہ ھی المیہ ھے جو خلیج کو بڑھا رہاھے اور سندھ کے پنجابی کو مہاجر اور پٹھان جیسی سیاست اور حمکت عملی اپنانے کی سوچ کی طرف دھکیل رہاھے .

*PNF Sindh Zone*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int