پنجاب تقسیم کرنے سازش پاکستان میں بارہ صوبے بننے اور پنجابی سمیت پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینے پر ختم ھوگی

جس شدت کے ساتھ پنجاب اور پنجابی کو قوم پرستی کی طرف دھکیلا جا رہا ھے اور زور شور سے کھلم کھلا پنجاب کی تقسیم کیلئے حکومتی اور ریاستی آشیرباد سے پنجاب کو ٹکڑے کرنے کے غیر آئینی اقدامات کئے جا رھے ھیں ایک صوبے میں دو چیف سیکرٹری اور  آئی جی سیکریٹریٹ بنائے جا رھے ھیں ، سندھ سے بلاول زرداری سمیت باقی رہنما کھلم کھلا پنجاب توڑنے کی حمایت کر رھے ھیں اور بلوچستان ،کے پی کے اس معاملے پر ان پشت پناھی کر رھے ھیں ، تو لا محالہ پنجابی قوم پرست بھی مذید صوبوں کے قیام کیلئے اٹھنے والی مضبوط آوازوں کا ساتھ دینے پر مجبور ھوں گے اور پنجاب کی تقسیم کی کوشش پاکستان میں بارہ 12 صوبوں کے قیام کا سنگ بنیاد بن جائے گی . 

اور یہ ھی اصل کھیل ھے جو کھیلا جا رہا ھے ، سندھ بلوچستان اور کے پی کے بھی پنجاب کی تقسیم کے زد میں آئیں گے اور کھیل کھیلنے والے کامیاب ھو جائیں گے اور لڑاؤ اور حکومت کرو اور مفادات سمیٹو والا کھیل ایک بار پھر کامیاب ھوگا .

 پنجابی قوم پرستی کی مضبوط ھوتی لہر سے پاکستان کی "قومی زبانیں پنجابی سندھی براہوی پشتو  سمیت پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانیں ھوں گی . 

پاکستان کو سماجی طور پر منظم ' سیاسی طور پر مستحکم ' معاشی طور پر مضبوط اور اقتصادی طور پر ترقی یافتہ ملک بنانے، پاکستان میں امن ' استحکام اور خوشحالی پیدا کرنے، پاکستان کی عوام کو مطمعن ' مستحکم اور متحد رکھنے کے لیے فیڈریشن کو نظریہ پاکستان کے مطابق رھنے دیا جائے اور پنجاب توڑنے کی سازش بند کی جائے اور چاروں اکائیوں کو مذید اختیارات دے کر مضبوط کیا جائے اور اگر پنجاب تقسیم کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنایا گیا تو پھر پاکستان میں بولی جانے والی " پنجابی سمیت تمام زبانیں قومی زبان بنیں گی اور پاکستان میں پانچ نہیں 12 صوبے بنیں گے"

01۔ بہاولپور ڈویژن پر مشتمل جنوب مشرقی پنجاب صوبہ ھوگا۔صوبائی زبان  ماجھی پنجابی ، ریاستی پنجابی اور جھنگوچی پنجابی ھوگی۔

02۔ ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن پر مشتمل جنوب مغربی پنجاب صوبہ ھوگا۔صوبائی زبان ماجھی پنجابی ، ڈیرہ والی پنجابی جھنگوچی پنجابی اور بلوچی ھوگی 

03۔ ملتان اور فیصل آباد ڈویژن پر مشتمل وسطی پنجاب صوبہ ھوگا۔صوبائی زبان ماجھی پنجابی ،جھنگوچی پنجابی اور ملتانی پنجابی ھوگی۔

04۔ گوجرانوالہ ' لاھور اور ساھیوال ڈویژن پر مشتمل شمال مشرقی پنجاب صوبہ ھوگا۔ صوبائی زبان  ماجھی پنجابی ، دوآبی پنجابی اور جھنگوچی پنجابی ھوگی۔

05۔ راولپنڈی ' سرگودھا ' کوھاٹ اور بنوں ڈویژن پر مشتمل شمال مغربی پنجاب صوبہ ھوگا۔ صوبائی زبان ماجھی پنجابی ، پوٹھو ھاری پنجابی اور شاھپوری پنجابی ھوگی۔

06۔ ھزارہ ' مردان ' مالاکنڈ اور پشاور ڈویژن پر مشتمل ھندکو صوبہ ھوگا۔ صوبائی زبان ھندکو پنجابی ،پشتو  ماجھی پنجابی ، پوٹھو ھاری پنجابی ھوگی۔

07۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان پر مشتمل پختونخوا صوبہ ھوگا۔ صوبائی زبان پشتو، ھندکو پنجابی اور ماجھی پنجابی  ھوں گی

08۔ ژوب ' کوئٹہ اور سبی ڈویژن پر مشتمل پشتونخوا صوبہ ھوگا۔ صوبائی زبان پشتو، براہوی، بلوچی، ماجھی پنجابی اور ھندکو پنجابی ھوگی۔

09۔ قلات اور مکران ڈویژن پر مشتمل براھوستان صوبہ ھوگا۔ صوبائی زبان براہوی، بلوچی، ماجھی پنجابی اور ھندکو پنجابی ھوگی۔

10۔ نصیر آباد اور لاڑکانہ ڈویژن پر مشتمل سرائیکستان صوبہ ھوگا۔ صوبائی زبان سندھی  ماجھی پنجابی  ڈیرہ والی پنجابی اور  ملتانی پنجابی جسے کچھ سندھی الفاظ مکس کرکے سن 62 میں سرائیکی کا نام دیا گیا  ھوگی۔

11۔ سکھر ' حیدرآباد اور میرپور خاص ڈویژن پر مشتمل سماٹستان صوبہ ھوگا۔ صوبائی زبان سندھی اردو ماجھی پنجابی ،ملتانی ریاستی بہاولپوری  پنجابی ھوگی۔

12۔ کراچی ڈویژن پر مشتمل کراچی صوبہ ھوگا۔ صوبائی زبان اردو سندھی، ماجھی پنجابی  پشتو اور گجراتی  ھوگی .

*PNF Sindh Zone*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟