سماٹ سندھی اور حکمرانی

پنجاب کی دھرتی پر حق اقتدار اور اختیار پنجابی کا ھے جب تک پنجاب کے اقتدار پر غیر پنجابی اور پنجابی نما غلام قابض رھے پنجاب بھی پسماندہ رہا پنجاب میں جو ترقی پچھلے پچیس سال میں آپ کو نظر آئی وہ پنجاب پر پنجابی کی حکمرانی سے آئی ، اور اب پھر پنجاب کو بنجر بنانے کیلئے مشکوک چوری شدہ الیکشن کے ذریعے ایک غیر پنجابی کو پنجاب کا وزیراعلی بنا دیا گیا جس نے صرف دو سال کے عرصے میں پنجاب کا بیڑہ غرق کردیا.

اسی طرح ،
سندھ کی حکمرانی(حق اقتدار اور اختیار) اکثریت سماٹ کے پاس ھونی چاھئے تھی جو بدقسمتی سے نہیں اسی لئے سندھ میں جو ترقی اور خوشحالی ھونی چاھئیے تھی وہ نہیں .

سندھ کے اصل وارث سماٹ ھیں لیکن؛

1۔ سندھ کا وزیرِ اعلی عربی نزاد ھے۔

2۔ سندھ کا گورنر ھندوستانی نزاد ھے۔

3۔ سندھ اسمبلی کا اسپیکر افغانی نزاد ھے۔

4۔ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر بلوچ نزاد ھے۔

5۔ سندھ کے سب سے بڑے شھر کراچی کا میئر ھندوستانی نزاد ھے۔

6۔ سندھ کے دوسرے بڑے شھر حیدرآباد کا میئر ھندوستانی نزاد ھے۔

7۔ سندھ کی حکمراں پارٹی پی پی پی کا سربراہ بلوچ نزاد ھے۔

سوال یہ ھے کہ؛ سندھ کے اصل باشندے سماٹ کی "سندھ کی حکمرانی" میں کیا حیثیت ھے؟

جب تک سیاسی طور پر مضبوط اور مستحکم ھوکر سندھ کی آبادی کے %42 سماٹ سندھی خود کو %2 عربی نزاد ‘ 7٪ افغانی نزاد ' %16 بلوچ نزاد اور %19 ھندوستانی نزاد قبضہ گیروں کی سماجی ‘ معاشی ‘ سیاسی بالادستی سے نجات حاصل کرکے اپنا حق اقتدار و اختیار حاصل نہیں کرتے اس وقت تک؛

1۔ نہ سندھ کا سماجی ماحول ٹھیک ھونا ھے۔

2۔ نہ سندھ کا لاء اینڈ آرڈر ٹھیک ھونا ھے۔

3۔ نہ سندھ کی سیاست ٹھیک ھونی ھے۔

4۔ نہ سندھ میں ڈویلپمنٹ ٹھیک ھونی ھے۔

5۔ نہ سندھ میں ایجوکیشن ٹھیک ھونی ھے۔

6۔ نہ سندھ کی ایڈمنسٹریشن ٹھیک ھونی ھے۔

7۔ نہ سندھ میں معاشی سرگرمیاں ٹھیک ھونی ھیں۔

8۔ نہ سماٹ سندھیوں کے سماجی حالات ٹھیک ھونے ھیں۔

9۔ نہ سماٹ سندھیوں کے معاشی حالات ٹھیک ھونے ھیں۔

10. نہ تھر سے بھوک افلاس اور خودکشیاں ختم ھونی ھیں .

*PNF Sindh Zone*

Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

دھرمی تے لسانی ونڈ انگریز تے اوھدے وفادار یوپی اشرافیہ دا مشترکہ پلان سی ، اک ای زبان ھندی نوں اسکرپٹ دی بنیاد تے دو ناں دے کے پہلاں ھند وچ دھرمی لسانی فساد دی نیہہ/بنیاد رکھی گئی اوس توں باد خطے دیاں دو وڈیاں قوماں بنگالی تے پنجابی نوں ٹارگٹ کرکے اونھاں دیاں ماں بولیاں تے رہتل نوں ختم کرکے اردو نوں اونھاں دی قومی زبان بنان دی سازش کیتی گئی بنگالی کیوں جے پنجابیاں وانگ غزنوی ابدالی ورگے ڈاکوواں دی ہزار سال دی لٹ مار تے انگریز یوپی اشرافیہ دی ماں بولی رہتل تے مشترکہ یلغار توں محفوظ رئے ایس لئی پنجابیاں دے مقابلے وچ ماں بولی تے رہتل دی بقا تے تحفظ دا جذبہ زندہ ھون دے کرکے ، اردو دے زبردستی نفاد دے خلاف لڑ کے جاناں دے ایس یلغار توں بچ گئے تے پنجابی ناں بچ سکے ، یلغار اج وی جاری اے پنجابی خاص کرکے پنجاب دے پنجابی نوں ایس یلغار نوں بنگالیاں وانگ ڈکنا پووے گا جے اور ماں بولی پنجابی تے رہتل نوں بچانا چاہندے نیں . «افضل پنجابی» پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل .PGF Int