بلوچ آستین کا سانپ

بلوچستان میں پہلا آپریشن جنرل ایوب (پٹھان) نے کیا الزام اور ردعمل پنجابی کے خلاف آیا ، کسی پٹھان کو ایک خراش تک نہیں آئی نہ ھی پٹھان کے خلاف کوئی نعرہ لگا ، کیونکہ پٹھان منظم اور متحد قوم پرست تھے .

 دوسرا آپریشن ذوالفقار بھٹو (سندھی) نے کرایا اور فیصلہ کن پوزیشنوں پر اسوقت بھی اکثریت غیر پنجابی تھے ،الزام اور ردعمل پھر پنجابی کے خلاف ، کسی سندھی کے خلاف کوئی ردعمل نہیں اور نہ کوئی آواز سندھی کے خلاف بلوچستان سے اٹھی ، کیونکہ سندھی منظم اور متحد قوم پرست تھے .
 اور تیسرا آپریشن مشرف (مہاجر) نے کیا ، بگٹی کو قتل اور اسکا برملا اعتراف بھی کیا ، ردعمل پھر پنجابی کے خلاف آیا پنجابی آج بھی بلوچستان میں قتل ھو رھے ھیں،لیکن کسی مہاجر کے خلاف کوئی نعرہ یا ردعمل نہیں کیونکہ ایک چھوٹی اقلیت ھونے کے باوجود مہاجر منظم اور متحد قوم پرست ھیں

جنرل ضیا الحق(پنجابی) نے بھٹو والے سارے مقدمات ختم اور قیدی رہا کئے اس کا کوئی ذکر اور اعتراف نہیں ،
 نفرت صرف پنجاب اور پنجابیوں سے؟؟؟؟ 

مری ، بگٹی و دیگر نوابوں کے بچے لاھور میں تعلیم کے دوران چوہدری ظہور الہی(پنجابی) کے مہمان بنیں رھیں کھائیں عیاشی کریں اور بلوچستان میں نمک حرامی کرتے ھوئے پنجابی کے خلاف زہر اگلیں اور قتل کریں کیوں ؟؟؟؟
 
نواز شریف(پنجابی) نے ہر بار بلوچ قوم پرست کو وزیر اعلی بنایا۔ صلہ بسوں سے اتار کر شناخت کرکے سینکڑوں نہتے غریب پنجابی مذدوروں کو بزدلوں کی طرح قتل کرکے،بلوچستان میں سیٹل پنجابی ٹیچرز پروفیسز ڈاکٹرز تاجروں اور محنت کشوں کی لاشوں کے تحفے دے کر دیا , کیوں ؟؟؟؟

اس سب کا ذمہ دار خود پنجابی ھے پاکستان کی سب سے بڑی اکثریت ھونے کے باوجود نہ منظم ھیں اور نہ متحد ، اسلام اور پاکستان کا ٹھیکہ دئیے جانے کی سازش کو بھی نہ جان سکے اور سانپ کی نسل کو دودھ پلا کر اس سے وفاداری کی امید لگا بیٹھے ، جو اپنی زمین اور علاقے سے وفا نہ کر سکے وہ بھلا دوسروں کے کیسے وفادار ھوں گے ان کی ھسٹری بتاتی ھے کہ یہ صرف طاقتور ڈنڈے والے کی اطاعت کرتے ھیں .

ھوش محمد شیدی کی مثال سامنے ھے ھوش محمد شیدی کی شھادت کے فورآ بعد انھوں نے لڑے بغیر سندھ انگریز کی گود میں ڈال کر انگریز کی بیعت کر لی اور سندھ کا اصل وارث آج بھی اس وھم میں مبتلا ھے کہ یہ سندھ کے محافظ ھیں .

پنجابی جب تک پنجابی بن کر ایک طاقت نہیں بنیں گے متحد اور منظم نہیں ھوں گے اسی طرح چھوٹی چھوٹی متحد اور منظم اقلیتوں کے ھاتھوں برباد ھوتے رھیں گےاور ان کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک ھوگا.
*افضل پنجابی*
*PNF Sindh Zone*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟