سندھ جعلی ڈومیسائل

جعلی ڈومیسائل پر ملازمت ہر صوبے میں پورے پاکستان کے لوگ کر رھے ھیں جعلی ڈومیسائل اور ملازمت دونوں قابل مذمت ھیں،
 لیکن پچھلے کچھ دنوں سے تسلسل کے ساتھ سندھ سے باالخصوص سندھ کے قوم پرستوں کی طرف سے صرف پنجاب کے پنجابیوں کو ٹارگٹ کرکے مہم چلائی جا رھی ھے ، 
پورے پنجاب میں سندھ کے سندھیوں (ھندؤں) سمیت بہت بڑی تعداد میں ڈاکٹر جعلی ڈومیسائل پر پورے پنجاب میں ملازمت کر رھے ھیں ، کبھی کسی پنجابی نے ٹارگٹ کرکے سندھیوں کو برا بھلا کہا ؟؟؟
پنجاب میں صرف سندھ نہیں بلوچستان اور کے پی کے والوں نے بھی جعلی ڈومیسائل پر ملازمتیں لے رکھی ھیں کیا کبھی پنجاب یا پنجابی قوم پرستوں نے پٹھان اور بلوچ کو نام لیکر اس جعلسازی پر ٹارگٹ کیا ؟؟؟؟
سندھ کی بدقسمتی یہ ھے کہ یہاں جو لوگ سندھی قوم پرست بنے ھوئے ھیں وہ اصل سندھی ھیں ھی نہیں ان کی دال روٹی اور دکانداری صرف اسوقت ھی چل سکتی ھے جب اصل سندھی حقیقت کی بجائے ان کے بتائے ھوئے فلسفے پر چلیں اور بدقسمتی سے وہ اس میں کامیاب ھیں 
یہ نام نہاد سندھی قوم پرست جو خود اصل سندھی نہیں سندھ میں بلوچ اور سید ھیں لیکن سندھی کہلاتے ھیں پنجاب میں بلوچ سرائیکی اور مخدوم اور کے پی کے بلوچستان بلوچ کہلاتے ھیں ،
یہ نام نہاد سندھی قوم پرست کبھی بلوچستان کے رہائشی کے سندھ میں جعلی ڈومیسائل پر ملازمت کرنے پر نہیں بولے اور نہ ھی کبھی کسی پٹھان کے جعلی ڈومیسائل پر سندھ میں ملازمت پر بات کی ،
اس سے ثابت ھوتا ھے کہ بات نہ جعلی ڈومیسائل اور کسی کا حق مار کر لی گئی ملازمت کی ھے نہ کسی اصول کی یہ صرف اپنی قبضہ گیری کو بچانے اور بغض پنجابی میں چلائی جانے والی مھم ھے تاکہ اصل سندھی سماٹ کا ایک بار پھر گمراہ کر سکیں ،
سب سے اھم بات جو اس جعلی ڈومیسائل کی پنجابی کے خلاف مہم کی وجہ ھے وہ یہ ھے کہ سندھ کا سماٹ اب یہ بات سوچنے اور سمجھنے لگا ھے کہ پنجابی جو کہ ہزاروں سال سے اس کا پڑوسی ھے اور ان ہزاروں سالوں کی قربت میں یہ دونوں پڑوسی کبھی بھی نہیں لڑے نہ کوئی تنازع ھوا پچھلی ایک صدی کے دوران پروپیگنڈے اور سازش کے تحت انھیں لڑا کر کوئی اپنا فائدہ اٹھا رہا ھے ، سندھ میں اکثریت ھونے کے باوجود اصل سندھی اقتدار اور اختیار سے محروم ھیں ، اسی شعور اور سوچ سے سماٹ سندھی کو دور کرنے کیلئے صرف پنجاب اور پنجابی کے ڈومیسائل کی خبر کو اچھالا جا رہا ھے جبکہ بلوچستان اور کے پی کے سے آکر ہزاروں کی تعداد میں سندھ کا جعلی ڈومیسائل بنا کر لی گئی ملازمتوں پر یہ نام نہاد سندھی قوم پرست گونگے اور بہرے بنے ھوئے ھیں ، 
پی این ایف سندھ زون سندھ گورنمنٹ اور وفاقی گورنمنٹ سے مطالبہ کرتی ھے کہ ایک غیر جانبدار کمیشن بنائیں جس میں بے داغ کردار کے حامل لوگوں کو شامل کرکے  پاکستان کے چاروں صوبوں میں جعلی ڈومیسائل بنا کر دینے والوں، جعلی ڈومیسائل بنوانے میں اثر رسوخ استعمال کرنے والوں، جعلی ڈومیسائل بنوانے والوں اور انھیں ملازمت دینے والوں کو بینقاب کرے اور سخت سے سخت سزا دی جائے اگر ھو سکے تو پھانسی دی جائے اور ساتھ کے ساتھ اس جعلی ڈومیسائل مہم کو بدنیتی سے صرف پنجابی کے ساتھ جوڑ کر پنجابی کے خلاف استعمال کرنے والوں کو بھی کڑی سزا دے ..  ( افضل پنجابی)
*PNF Sindh Zone*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟