میں اپنے تمام ناقدین اور ھم خیال بھائیوں کا مشکور ھوں کہ وہ میری رہنمائی اپنی تنقید اور اصلاح سے کرتے رھتے ھیں ، میرا فورم پی این ایف(پنجابی نیشنلسٹ فورم) ایک انٹرنیشنل فورم ھے جو محترم شھباز آرائیں صاحب کی شبانہ روز محنت سے دس سال کے طویل عرصے تشکیل پایا جس کے صرف پاکستان میں آٹھ زون ھیں اور ہر زون کا پروگرام وہاں کے مسائل کا شکار پنجابی اور وہاں رہنے والے انڈس سولائیزیشن کے اصل زمین زاردوں کے مسائل کو ایڈریس کرکے علمی انداز میں ان مسائل کا حل تلاش کرنا اور سفارشات مرتب اور پیش کرنا ھے ،
میں چونکہ سندھ زون کا آرگنائیزر ھوں اسلئے میری ذمہ داری ھے کہ سندھ میں ایک صدی سے زائد عرصے سے آباد اور مسائل اور مشکلات کا شکار سندھ کے پنجابی بولنے والے سندھیوں اور سندھ کے اصل زمین زادوں سماٹ سندھی کے مسائل مشکلات محرومیوں اور استحصال کو ایڈریس کرکے علمی انداز اور دلیل کے ساتھ سفارشات پیش کروں
میری تحریر اور سفارشات سے میرے ناقدین کے علاوہ میرے چاھنے والوں کو بھی اختلاف ھو سکتا ھے اور یہ ایک صحت مند رویہ ھے اختلاف برائے اصلاح اور تنقید برائے تعمیر سے ھی ایک اجتماعی تعمیری اور مثبت رویہ جنم لیتا ھے ، لیکن تنقید برائے تنقید اور اختلاف برائے اختلاف ایک تخریبی اور منفی ردعمل ھے جسے سے معاشرے برباد اور لوگوں میں دوریاں پیدا ھوتی ھیں
اپنی زون کی ذمہ داریوں کی وجہ سے میری پوسٹ سندھ کے پنجابی اور سماٹ سندھی کی محرومیوں اور مسائل پر ھوتی ھیں اسلئے کچھ دوست اور ناقد یہ تاثر لیتے ھیں کہ شاید پی این ایف سندھ زون بلوچ اور سید کو ٹارگٹ کرکے سندھ کے واسیوں کو تقسیم یا ایک دوسرے سے ٹکرانا چاھتا ھے غلط ھے ، سندھ میں غریب طبقے کے بلوچ اور سید بھی ان ھی مسائل کا شکار ھیں جس کا سامنا سندھ کے پنجابی اور سماٹ سندھی کر رھے ھیں ، لیکن چونکہ سندھ کے اختیارات اور اقتدار طویل عرصے سے عرب(سید/شاہ) اور کرد( بلوچ) کے پاس ھیں اسلئے ان مسائل اور محرومیوں کی ذمہ داری بھی ان پر آتی ھے
کسی علاقے یا خطے کی اکثریت اور انکے حق اقتدار اور اختیار پر اگر اس علاقے/خطے یا کسی دوسرے علاقے سے آئے اقلیتی لوگ مسلط یا قابض ھوں استحصال کہلاتا ھے اور استحصالی طبقہ چونکہ مال اور اقتدار کی ھوس میں مبتلا ھوتا ھے اسلئے استحصال زدہ لوگوں کے ساتھ اپنی قوم کے لوگوں کے حقوق کا بھی استحصال کرتا ھے اسی وجہ سے سندھ میں غریب بلوچ اور سید بھی ان ھی مشکلات اور مسائل کا شکار ھیں جس کا سندھ کی اکثریت سماٹ سندھی اور پنجابی گجراتی تھری اور باقی قوموں کے غریب لوگ ھیں
میری پوسٹ اور آرٹیکلز کو کچھ لاعلم دوست لسانیت اور عصبیت کے کھاتے میں بھی ڈالتے ھیں میری ان سے درخواست ھے کہ قوم پرستی اور عصبیت لسانیت اور علاقائیت میں فرق سمجھیں اور تلاش کریں
میری پوسٹ اور آرٹیکلز پر کمنٹ کرنے والوں سے درخواست ھے تعمیری اور مثبت تنقید دل کھول کر کریں، لیکن بے مقصد فضول دلیل کے بغیر گالی والے کمنٹ نہ کریں
پی این ایف واحد قوم پرست فورم ھے جو ہر زون میں پنجابیوں کے مسائل مشکلات اور جبر پر بات کرنے کے ساتھ وہاں کے انڈس سولائیزیشن کے اپنے پڑوسی قوم کے لوگوں کے حقوق مسائل اور استحصال کی بات اور وکالت بھی کرتا ھے
ھم اپنی ہر بات دنیاوی اور دینی تمام پہلو بغور دیکھنے کے بعد کرتے ھیں پھر بھی غلطی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ، اس لئے تمام دوست اس کی نشاندھی کرکے دلیل کے ساتھ ھماری اصلاح کریں اور لسانیت عصبیت علاقائیت اور غدار جیسے تمغے اور انعام نہ دیں ..
جزاک اللہ خیر
سکھی رھیں
«افضل پنجابی زونل آرگنائیزر پی این ایف سندھ زون»

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟