عرب اور کرد نزاد کے علاوہ جو دوسرے قبائل موجودہ سندھ کے علاقے میں زمانہ قدیم سے رہ رھے ھیں انکو سماٹ قوم کے قبائل یا سما قوم کی شاخیں کہتے ھیں۔ اسلام کے ظہور کے بعد سما یا سماٹ قوم کی بڑی تعداد اسلام قبول کر کے مسلمان ھوئی کچھ اپنے پرانے دھرم سے منسلک رھے ، سما یا سماٹ قوم کے افراد سندھ سے باھر خاران ' جھالاوان ' مکران اور دشت ندی تک آباد ھیں۔ سماٹ سندھی قبائل کی تعداد 300 تک ھے۔ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں
14 لاکھ 35 ھزار عربی نزاد سندھی ھیں '
 76 لاکھ 56 ھزار بلوچ نزاد سندھی ھیں
جبکہ 2 کروڑ 3 لاکھ سماٹ سندھی ھیں۔
جو کہ سندھ کی سب سے بڑی اکثریت ھے لیکن بدقسمتی سے اپنے عرب اور کرد نزاد سندھیوں سے سیاسی سماجی معاشرتی اور معاشی لحاظ سے کافی پیچھے ھیں
اب جب کہ سماٹ سیاسی عمل اور سیاست کو ، اپنی سیاسی سماجی معاشرتی اور معاشی پستی کی وجہ سمجھنے اور جاننے لگے ھیں اس لئے امید ھے مستقبل قریب میں پاکستان اور سندھ کی سیاست میں سماٹ اھم رول ادا کریں گے اور پنجابی بولنے والے سندھی ان کے اھم پارٹنر ھوں گے ان شاء اللہ

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟