پنجابی نیشنلسٹ فورم کا مشن ' تنظیم ' قوائد و

پنجابی نیشنلسٹ فورم کا مشن ' تنظیم ' قوائد و ضوابط

پاکستان میں پنجابی پاکستان کے ھر علاقے میں رھتے ھیں۔ پاکستان کے ھر علاقے میں پنجابیوں کے سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی مسائل الگ الگ ھیں۔ پاکستان میں پنجابی قوم پرستی کے بڑھنے کی وجہ سے اس وقت سارے پاکستان میں پنجابی قوم پرست کام کر رھے ھیں۔ لیکن اکیلے اکیلے پاکستان کی سطح پر یا اکٹھے ھوکر صرف اپنے علاقے میں ھی کام کرنے کی وجہ سے پنجابی قوم پرست سمجھتے ھیں کہ؛ وہ پاکستان کی سطح پر پنجابی قوم کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لیے "پنجابی نیشنلسٹ فورم" کے پاکستان میں 8 زون بنائے گئے ھیں۔ یہ زون ھیں؛ شمالی پنجاب زون ' وسطی پنجاب زون ' جنوبی پنجاب زون ' سندھ زون ' کراچی زون ' بلوچستان بلوچ ایریا زون ' بلوچستان پشتون ایریا زون ' صوبہ خیبر زون اور ایک وومن ونگ ھے۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم کے زونل آرگنائزر بنا دیے گئے ھیں اور دو وومن ونگ بھی بنا دیے گئے ھیں۔ سارے زونل آرگنائزر اپنی اپنی زون کا کام بہترین طریقے سے کر رھے ھیں۔ ایک زونل آرگنائزر دوسری زون کا کام نہیں کرتا۔ تاکہ اپنی زون کے مسائل پر دھیان رکھ سکے۔ البتہ دوسری زون کے زونل آرگنائزر کی درخواست پر تعاون ضرور کرتا ھے۔ اپنی اپنی زون میں زونل آرگنائزروں نے اعلیٰ تعلیم یافتہ ' سیاسی شعور اور پنجابی قوم کے لیے کام کرنے کا جذبہ رکھنے والے 10 میمبروں کی ایگزیکٹو کمیٹی بنائی ھے۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم میں علمی صلاحیت والے پنجابیوں کو زون کی سطح پر اور مالی وسائل والے پنجابیوں کو ڈسٹرکٹ کی سطح پر جبکہ عوامی تعلقات والے پنجابیوں کو تحصیل کی سطح پر اھمیت دی جاتی ھے۔

جن پنجابیوں کے پاس مالی وسائل اور عوامی تعلقات نہ بھی ھوں۔ تو بھی علمی صلاحیت کی وجہ سے ان پنجابیوں کو پنجابی نیشنلسٹ فورم کے زونل آرگنائزر اور زونل ایگزیکٹو کمیٹی کا میمبر بنایا گیا ھے۔ تاکہ پنجابی قوم پرستی کے پروگرام کو اپنی علمی صلاحیت سے فائدہ پہنچائیں۔

جن پنجابیوں کے پاس علمی صلاحیت اور عوامی تعلقات نہ بھی ھوں۔ تو بھی مالی وسائل کی وجہ سے ان پنجابیوں کو جنوری 2020 سے پنجابی نیشنلسٹ فورم کے ڈسٹرک آرگنائزر اور ڈسٹرکٹ کی ایگزیکٹو کمیٹی کا میمبر بنایا جائے گا۔ تاکہ پنجابی قوم پرستی کے پروگرام کو اپنے مالی وسائل سے فائدہ پہنچائیں۔

جن پنجابیوں کے پاس علمی صلاحیت اور مالی وسائل نہ بھی ھوں۔ تو بھی عوامی تعلقات کی وجہ سے ان پنجابیوں کو جولائی 2020 سے پنجابی نیشنلسٹ فورم کا تحصیل/ سٹی آرگنائزر اور تحصیل/ سٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا میمبر بنایا جائے گا۔ تاکہ پنجابی قوم پرستی کے پروگرام کو اپنے عوامی تعلقات سے فائدہ پہنچائیں۔

جنوری 2020 سے زونل آرگنائزر اپنی زونل ایگزیکٹو کمیٹی کے میمبروں کی مشاورت سے اپنی اپنی زون میں ڈسٹرک آرگنائزر بنائیں گے۔ جبکہ جولائی 2020 سے ڈسٹرک آرگنائزر اپنی اپنی ڈسٹرک میں یونین آرگنائزر بنائیں گے۔ اس طرح دسمبر 2020 تک پنجابی نیشنلسٹ فورم کی سارے پاکستان میں تنظیم بن جائے گی۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم کے زونل آرگنائزروں کے نام اور زون کا مشن

01۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم شمالی پنجاب زون کے زونل آرگنازر جناب Rajpoot Zulfiqar صاحب ھیں۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم شمالی پنجاب زون کا مشن شمالی پنجاب میں پنجابیوں کو پختونوں کی بالادستی سے فیس بک پر علمی طریقے اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرکے نجات دلانا اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ گجر ‘ راجپوت ‘ شیخ اور دوسری چھوٹی پنجابی برادریوں کو برادری تک محدود رہ کر آپس میں محاذ آرائی کرنے کے بجائے ' پنجابی قوم پرست بنا کر ' پنجابی برادریوں کا دھیان پنجاب کی زمین ' زبان ' تہذیب ' ثقافت پر دلوا کر پنجابی قوم کو سیاسی و سماجی طور پر مضبوط قوم اور پنجاب کو معاشی و اقتصادی طور پر مستحکم دیش بنانا ھے۔

02۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم وسطی پنجاب زون کے زونل آرگنازر جناب Nadeem Ahmed Punjabi صاحب ھیں۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم وسطی پنجاب زون کا مشن وسطی پنجاب میں پنجابی زبان کو اردو زبان کی بالادستی سے اور پنجابیوں کو اردو بولنے والوں کی بالادستی سے فیس بک پر علمی طریقے اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرکے نجات دلانا اور پنجابی قوم کی بڑی برادریوں ارائیں ‘ اعوان ‘ جٹ ‘ گجر ‘ راجپوت ‘ شیخ اور دوسری چھوٹی پنجابی برادریوں کو برادری تک محدود رہ کر آپس میں محاذ آرائی کرنے کے بجائے ' پنجابی قوم پرست بنا کر پنجابی برادریوں کا دھیان پنجاب کی زمین ' زبان ' تہذیب ' ثقافت پر دلوا کر  ' پنجابی قوم کو سیاسی و سماجی طور پر مضبوط قوم اور پنجاب کو معاشی و اقتصادی طور پر مستحکم دیش بنانا ھے۔

03۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم جنوبی پنجاب زون کے زونل آرگنازر جناب DrJamil Arain صاحب ھیں۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم جنوبی پنجاب زون کا مشن جنوبی پنجاب میں پنجابیوں کو بلوچوں اور عربی نزادوں کے ظلم و زیادتی اور بالادستی سے جبکہ بلوچوں اور عربی نزادوں کی طرف سے کی جانے والی "سرائیکی شازش" سے ' فیس بک پر علمی طریقے اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرکے نجات دلانا اور پنجابی قوم کی مقامی پنجابی ' آبادگار پنجابی ' مھاجر پنجابی میں تقسیم اور آپس کی محاذ آرائی ختم کروا کر ' ان کو پنجابی قوم پرست بنا کر ان کا دھیان پنجاب کی زمین ' زبان ' تہذیب ' ثقافت پر دلوا کر  ' پنجابی قوم کو سیاسی و سماجی طور پر مضبوط قوم اور پنجاب کو معاشی و اقتصادی طور پر مستحکم دیش بنانا ھے۔

04۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم سندھ زون کے زونل آرگنازر جناب Afzal Punjabi صاحب ھیں۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم سندھ زون کا مشن دیہی سندھ میں پنجابیوں کو بلوچوں اور عربی نزادوں کے ظلم و زیادتی اور بالادستی سے فیس بک پر علمی طریقے اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرکے نجات دلانا اور پنجابی قوم کے سندھ کی اصل وارث سماٹ قوم کے ساتھ اور دیہی سندھ میں آباد براھوئی ' راجستھانی اور گجراتی قوموں کے ساتھ سماجی و سیاسی تعلقات بہتر بنانا ھے۔ تاکہ سماٹ قوم سندھ پر قابض بلوچوں اور عربی نزادوں کی سماجی ' سیاسی و معاشی بالادستی سے سندھ کے پنجابی ' براھوئی ' راجستھانی اور گجراتی کے تعاون کے ساتھ نجات حاصل کرسکے۔

05۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم کراچی زون کے زونل آرگنازر جناب Saleem Ilyas صاحب ھیں۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم کراچی زون کا مشن کراچی میں پنجابیوں کو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ظلم و زیادتی اور بالادستی سے فیس بک پر علمی طریقے اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرکے نجات دلانا اور پنجابی قوم کے کراچی میں سماٹ ' ھندکو ' براھوئی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی ' راجستھانی ' گجراتی کے ساتھ سماجی و سیاسی تعلقات بہتر بنانا ھے۔ تاکہ کراچی پر قابض یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سماجی ' سیاسی و معاشی بالادستی سے نجات حاصل کی جاسکے۔

06۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم بلوچستان کے براھوئی علاقے کے زونل آرگنازر جناب Mansoor Ahmad صاحب ھیں۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم بلوچستان کے براھوئی علاقے کے زون کا مشن بلوچستان کے براھوئی علاقے میں پنجابیوں کے ساتھ ھونے والے بلوچوں کے ظلم و زیادتی کا فیس بک پر علمی طریقے اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرکے نجات دلانا اور پنجابی قوم کے بلوچستان کی اصل وارث براھوئی قوم کے ساتھ سماجی و سیاسی تعلقات بہتر بنانا ھے۔ تاکہ براھوئی قوم بلوچستان کے براھوئی علاقے پر قابض بلوچوں کی سماجی ' سیاسی و معاشی بالادستی سے نجات حاصل کرسکے۔

07۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم بلوچستان کے پشتون علاقے کے زونل آرگنازر جناب Sheraz Rajpoot صاحب ھیں۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم بلوچستان کے پشتون علاقے کے زون کا مشن بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابیوں کے ساتھ ھونے والے پشتونوں کے ظلم و زیادتی کا فیس بک پر علمی طریقے اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرکے نجات دلانا اور پنجابی قوم کے بلوچستان کی اصل وارث براھوئی قوم کے ساتھ سماجی و سیاسی تعلقات بہتر بنانا ھے۔ تاکہ براھوئی قوم بلوچستان کے پشتون علاقے پر قابض پشتونوں کی سماجی ' سیاسی و معاشی بالادستی سے نجات حاصل کرسکے۔

08۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم صوبہ خیبر زون کے زونل آرگنائزر جناب Kashif Punjabi صاحب ھیں۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم صوبہ خیبر زون کا مشن صوبہ خیبر میں پنجابیوں کے ساتھ ھونے والے پختونوں کے ظلم و زیادتی کا فیس بک پر علمی طریقے اور سیاسی حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کرکے نجات دلانا اور پنجابی قوم کے صوبہ خیبر کی اصل وارث ھندکو قوم اور کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی کے ساتھ سماجی و سیاسی تعلقات بہتر بنانا ھے۔ تاکہ ھندکو قوم صوبہ خیبر پر قابض پختونوں کی سماجی ' سیاسی و معاشی بالادستی سے صوبہ خیبر کے پنجابی ' کوھستانی ' چترالی ' سواتی ' ڈیرہ والی کے تعاون کے ساتھ نجات حاصل کرسکے۔

09۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم وومن ونگ کی آرگنائزر محترمہ Ujala Chaudhary صاحبہ ھیں۔

پنجابی نیشنلسٹ فورم وومن ونگ کے بھی ویسے ھی زون بنائے جائیں گے جیسے پنجابی نیشنلسٹ فورم کے ھیں۔ ھر زون کی زونل آرگنائزر ھوگی۔ ھر زون کا وہ ھی مشن ھوگا جو پنجابی نیشنلسٹ فورم کی ھر زون کا مشن ھے۔ وومن ونگ کی زونل آرگنائزر اپنے زون میں 10 میمبروں کی زونل ایگزیکٹو کمیٹی بنائے گی۔

10۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم شمالی پنجاب زون وومن ونگ کی زونل آرگنائزر محترمہ Shahnaz Punjabi صاحبہ ھیں۔

11۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم وسطی پنجاب زون وومن ونگ کی زونل آرگنائزر محترمہ Shahzia Punjabi صاحبہ ھیں۔

12۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم وومن ونگ جنوبی پنجاب ' سندھ ' کراچی ' بلوچستان کے براھوئی علاقے ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' صوبہ خیبر زون کی زونل آرگنائزریں پنجابی نیشنلسٹ فورم وومن ونگ کی آرگنائزر محترمہ Ujala Chaudhary صاحبہ نے جون 2020 تک نامزد کرنی ھیں۔

پنجابی قوم پرستی کا کام کرنے والے اکیلے اکیلے پاکستان کی سطح پر یا اکٹھے ھوکر صرف اپنے علاقے میں ھی کام کرکے پنجابیوں کے پاکستان میں سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی مسائل کو بھی حل نہیں کر پا رھے اور اپنا وقت بھی خراب کر رھے ھیں۔ اس لیے ھر زون میں رھنے والے پنجابی اپنے زون کے "پنجابی نیشنلسٹ فورم" کے زونل آرگنائزر کے ساتھ رابطہ کرکے اپنے زون کے پنجابیوں کے سماجی و معاشی ' سیاسی و انتظامی مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کریں اور پنجابی عورتیں وومن ونگ کی زونل آرگنائزر کے ساتھ رابطہ کرکے کام کریں۔

" پنجابی نیشنلسٹ فورم" کے " قوائد و ضوابط " یہ ھیں؛

01۔ ھر پنجابی فیس بک پر صرف ایک زون میں ھی کام کرے گا۔ تاکہ جس زون کا کام کرے گا۔ اس زون پر ریسرچ کرے گا کہ؛ اس کے زون کے پنجابیوں پر جو ظلم و زیادتی ھو رھی ھے؛

(الف) ۔ وہ ظلم و زیادتی کر کون رھا ھے؟
(ب) ۔ اس ظلم و زیادتی کی وجہ کیا ھے؟
(پ) ۔ اس ظلم و زیادتی کا حل کیا ھے؟

02۔ ھر پنجابی فیس بک پر اپنے زون کے ساتھ دلچسپی رکھنے والے پنجابیوں کے ساتھ رابطہ کرکے تعلقات بڑھائے گا۔

03۔ ھر زون والا پنجابی فیس بک پر اپنے اپنے زون کا کام کرے گا۔ البتہ دوسرے زون والے کے مضامین پر کمنٹ کر سکے گا۔ لیکن زون کے زونل آرگنائزر کی زون کے بارے میں پالیسی پر عمل کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ایک زون والا پنجابی دوسرے زون والے پنجابی کے زون کی پالیسی کے ساتھ اختلاف نہیں کرے گا۔

04۔ ایک زون والا پنجابی دوسرے زون والے پنجابی سے اپنے زون کے لیے فیس بک پر مدد لے دے سکے گا۔

05۔ ھر زون کا پنجابی نیشنلسٹ فورم کا زونل آرگنازر اپنی اپنی زون میں پنجابی قوم کے درمیانے طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ' سیاسی شعور اور پنجابی قوم کے لیے کام کرنے کا جذبہ رکھنے والے 10 - 10 میمبروں کی ایگزیکٹو کمیٹی بنائے گا۔

06۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم کی ھر زون کا زونل آرگنازر اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کے میمبروں کے ساتھ مشورہ کرکے اپنے اپنے زون کی پالیسی اور سیاسی چالیں طے کرے گا۔

07۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے ھر میمبر کے لیے ضروری ھوگا کہ؛ وہ یا تو خود مضمون لکھے یا لکھے ھوئے مضمون میں سے پوائنٹ نکال کر نوٹس بنائے اور ان مضامین یا نوٹس کو فیس بک پر آگے پنجابیوں تک پہنچائے۔

08۔ ھر زون کا زونل آرگنائزر دوسرے زون کے زونل آرگنائزر کے ساتھ رابطہ رکھے گا۔ تاکہ آپس میں تعاون کیا جاسکے۔ جبکہ ھر زون کی ایگزیکٹو کمیٹی کے میمبر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھیں گے۔ تاکہ آپس میں تعاون کیا جاسکے۔

09۔ پاکستان سے باھر امریکہ ' افریقہ ' ایشیا ' یورپ ' آسٹریلیا میں رھنے والے پنجابیوں کے لیے 2020 میں زون بننا شروع ھوں گے۔ جو پنجابی قوم کے درمیانے طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ' سیاسی شعور اور پنجابی قوم کے لیے کام کرنے کا جذبہ رکھنے والے 10 - 10 میمبروں کی ایگزیکٹو کمیٹی بنائیں گے۔

10۔ پنجابی نیشنلسٹ فورم کے زونل آرگنازر اور ایگزیکٹو کمیٹی کے میمبر نے اپنے اپنے زون میں اس طرح پنجابیوں کا کیس لڑنا ھے جیسے وکیل اپنے موکل کا کیس لڑتا ھے۔



Comments

Popular posts from this blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

(جہڑا اردو بول سکدا اے او پنجابی وی بول سکدا اے) اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کے اردو کو وجود میں لانے سے پہلے پنجابی زبان کو صدیوں سے فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور پنجابی اسکرپٹ کو شاہ مکھی کہا جاتا ھے۔ گیارھویں صدی کے بابا فرید گنج شکر کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ھے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز نے ھندی فارسی اور پنجابی کے الفاظ میں معمولی ردوبدل کرکے پنجابی کی گرامر استعمال کرکے شاہ مکھی رسم الخط میں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی جس کا سب سے بڑا مقصد پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد کرنا تھا کیونکہ انگریز کو برصغیر اگر کہیں دلیرانہ مزاحمت ملی تو پنجاب سے ملی پورے ھندوستان پر انگریز نے مقامی غداروں کی مدد سے چالاکی عیاری سے بغیر کسی بڑی لڑائی اور مزاحمت کے قبضہ کیا جبکہ پنجاب کو فتح کرنے کیلئے اسے بارہ جنگیں لڑنی پڑیں اور پچاس سال اس مقصد کیلئے گنوانا پڑے ، سب سے زیادہ گورے پنجاب جنگ میں مرے ، اور انگریز کا سب سے زیادہ مالی جانی نقصان بھی پنجاب میں ھوا ، اس ذلت اور ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے شاطر انگریز نے پنجابی زبان اور ثقافت کو برباد اور پنجاب پنجابی کو اپنی زبان اور ثقافت سے بیگانہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اردو تخلیق کرکے اسے پڑھے لکھے سلجھے مہذب لوگوں کی زبان اور یوپی کلچر کو ہائی کلاس سوسائٹی کا کلچر اور پنجابی زبان اور کلچر کو جاہل پینڈو گنوار کی زبان اور کلچر ثابت کرنے کیلئے باقاعدہ منظم حکومتی سطح پر لسانی ثقافتی ادبی دہشتگردی کا آغاز کیا جو انگریز کے جانے کے بعد آج تک اس کے مسلط کئے ھوئے وظیفہ خور غلام جاری رکھے ھوئے ھیں ، پنجابی شملہ اور پگ جو پنجابی قوم کی عزت وقار کی علامت تھی اسے حکمرانوں، ہوٹلوں ، فوجی میسوں کے دربانوں اور باورچی اور گیٹ پر کھڑے غلام ٹائپ شخص کے سروں پر سجا کر اس ثقافتی ورثے ذلیل رسوا کرنے کا عمل شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ھے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں اردو کو وجود میں لاکر انگریز نے کلکتہ میں تو بنگالی زبان کو ھی فروغ دیا لیکن پنجابی زبان ' پنجابی ثقافت ' پنجابی تہذیب ' پنجابی تاریخ کے ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے 1877 میں اردو کو پنجاب میں نافذ کردیا اردو کو پنجاب کی سرکاری زبان بنا دیا اور ڈھنڈھورا یہ پیٹ دیا کہ اردو صدیوں پرانی زبان ھے ، حالانکہ اردو ایک مصنوئی زبان ھے۔ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ' تہذیب ' تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو وجود میں لاکر اور پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا اور اپنے انتقامی جذبے کو تسکین دی، پنجاب تو 1947 میں دو لخت ھو کر بیس لاکھ جسنوں کی قربانی دے کر انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگیا لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔ پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔ پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔ پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے، لیکن پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔ پنجابی قوم کی ثقافت ' تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔ پاکستان کے 60٪ لوگ پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولتے ھیں۔ پاکستان میں 20٪ لوگ پنجابی زبان کو دوسری زبان کے طور پر بولتے ھیں۔ اس طرح پاکستان میں 80٪ لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔ جبکہ پنجابی زبان کو 90٪ پاکستانی سمجھ لیتے ھیں۔ اس لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانا پاکستان کی انڈس سولائیزیشن والی زمین زاد قوموں اور اکثریت کے ساتھ مذاق اور پنجابی قوم کی توھین ھے۔ پاکستان میں رابطے کی زبان کے طور پر بھی اردو زبان کی کوئی ضرورت نہیں ھے جو اردو بول سکتا ھے وہ پنجابی بھی بول سکتا ھے۔ پنجابی گریجویٹس فورم انٹرنیشنل.PGF Int