بلوچستان میں پنجابیوں کا قتل عام

*پی این ایف سندھ زون حب میں پنجابی مزدور پر بی ایل اے کے دہشت گردوں کےحملے کی پرزور مذمت کرتا ھے* 

بی ایل اے ، بلوچ دہشت گردی اور پوری بلوچ ھسٹری پڑھیں یہ بنیادی طور پر ایک بزدل اور شاطر قوم ھے کبھی بھی کسی طاقتور سے آمنے سامنے نہیں لڑے ھمیشہ تیسری جنس کی طرح چھپ کر وار کیا
 یا ھمیشہ نہتے غریب اور پرامن لوگوں کو مارا ان کی زمینوں اور علاقوں پر قبضہ کیا 
یا انگریز جیسے طاقتور کی کاسہ لیسی کرنے اور کرائے کے فوجی بن کر مراعات اور جاگیریں لیں 
بلوچستان میں پنجابیوں کے مسلسل قتل جائیداد پر قبضے دراصل پنجاب کے پنجابی کی بیحسی اور مردہ قومی سوچ کی نتیجہ ھے
 اگر بلوچستان میں کوئی پٹھان سندھی یا مہاجر مارا گیا ھوتا تو ان علاقوں میں بلوچ کا رہنا جہنم میں رہنے جیسا ھوتا 
جب تک پنجاب سے بلوچستان میں بیگناہ مارے جانے والے غریبوں کیلئے ردعمل نہیں آئے گا جب تک پنجاب اور اسلام آباد میں حکومت اور ایوانوں کا حصہ بنے ان کے سرکاری اور سیاسی مہروں کے گریبان تک ھاتھ نہیں پہنچے گا یہ سلسلہ بند نہیں ھوگا بلکہ اور تیز ھوگا 
پنجاب والوں کو اب پنجاب اسمبلی اور اسلام آباد میں موجود ان کے سیاسی سہولت کاروں ایم پی اے اور ایم این ایز کو گلے ملنے کی بجائے گریبان سے پکڑ کر بلوچستان میں پنجابیوں کے قتل عام کا حساب مانگنا ھوگا ورنہ یوں ھی نوحہ لکھتے اور پڑھتے رہنا اور سوتے ھوتے ذلت رسوائی اور بربادی سہتے رہنا اور اپنے اسلام پاکستان اور اردو کے ٹھیکے کو قبروں کا کتبہ بناتے رہنا
*PNF Sindh Zone*

Comments

Popular posts from this blog

صوبائی زبانوں کو فوراَ نافذ اور قومی زبان کے لیے آئینی ترمیم کی جائے۔

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے، جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے، اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کو تمام علوم پر ترجیح دینا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا. اور مسلمانوں کے مسلسل زوال کی وجہ قرآن اور سنت کی پیروی کی بجائے رنگ و نسل میں تقسیم ھونا قرآن و سنت سے رہنمائی اور مدد لینے کی بجائے فرقہ پرست جاہل نام نہاد عالم دین کا لبادہ اوڑھے مفاد پرستوں اور ایجنٹوں کی پیروی کرنا اور سب سے بڑھ کر خوف خدا کا ختم ھونا ھے. قرآن و سنت مسلسل محنت تحقیق اور جستجو ، حق بات کی تائید اور غلط کو برا کہنے اور اس سے بچنے کا درس دیتا ھے اور آج کا مسلمان بحیثیت مجموعی ایک امت کے یہ سب کرنے کی بجائے مال بنانے کی جستجو میں ھے چاھے جیسا بھی ھو حلال حرام کی کوئی فکر نہیں . (ڈاکڑ ذولفقآر راجپوت کی پوسٹ کچھ ترمیم شدہ معذرت کے ساتھ )

پاکستان 1947 وچ بنیا تے 1937توں 1947 دس سال پنجاب دی حکمرانی مسلماناں کیتی جد بٹوارے ، اجاڑے تائیں دس سالاں توں پورے پنجاب دے حکمران مسلمان پنجابی سی تے 1947 وچ کہڑے ہندؤاں دی غلامی توں بچان لئی پنجاب اجاڑیا گیا؟؟؟؟؟ اے انگریز دے کہڑے کتا نہواؤ تے گٹر صفاؤ پالتو کتے سن جنہاں پنجاب اجاڑیا ؟؟؟؟؟